ممبئی: ملک کے وزیر داخلہ کے عہدے پر سردار ولبھ بھائی پٹیل رہے، اسی طرح ایک وقت میں یشونت راؤ چوہان اور شنکر راؤ چوہان بھی ملک کے وزیر داخلہ تھے۔ ان محب وطن رہنماؤں نے اس عہدے کی وقار کو بلند کرنے کے لیے شاندار کام کیا۔ ایک زمانے میں گجرات اور مہاراشٹر ایک ہی ریاست تھے۔ گجرات نے بہترین منتظمین کو ملک کے سامنے پیش کیا۔ ان میں سے جن کے نام میں نے لیے، ان سب کی ایک خاصیت یہ تھی کہ ان میں سے کسی کو بھی کبھی ان کی ریاست سے ملک بدر نہیں کیا گیا۔ ایسا لمحہ کبھی ان رہنماؤں پر نہیں آیا۔ اسی لیے آج جب گجرات سے تعلق رکھنے والے وزیر داخلہ کا ذکر ہوتا ہے تو ان کی یاد آتی ہے۔ یہ بات نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے قومی صدر شرد پوار نے ممبئی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہی۔
شرد پوار نے گفتگو کے دوران کہا کہ آج کا دن مکر سنکرانتی کا ہے۔ آپ سب کو مکر سنکرانتی کی مبارکباد۔ آپ سب کے ہاتھ میں قلم ہوتی ہے، اس لیے روز یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں۔ بس یہی کہنا ہے کہ اپنی قلم ہمارے حق میں رکھیں، شرد پوار نے کہا۔ ملک کی آزادی کے بعد کچھ قابل شخصیتیں منظر عام پر آئیں۔ سردار پٹیل نے آزادی کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں کو متحد کرنے کا کام کیا۔ اسی طرح آزادی کے بعد اترپردیش میں پنڈت گووند ولبھ پنت نے وزیر داخلہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ مہاراشٹر کی خدمات بھی اہم رہیں۔ یشونت راؤ چوہان اور شنکر راؤ چوہان بھی ملک کے وزیر داخلہ رہے۔ ان محب وطن رہنماؤں نے اس عہدے کی وقار کو برقرار رکھا۔
ہمارا پڑوسی گجرات، جو کہ پہلے مہاراشٹر کا ہی حصہ تھا، نے بھی ملک کو شاندار منتظمین دیے۔ گجرات کے بابو بھائی، جنہیں صاف ستھری اور ایماندار قیادت کے لیے جانا جاتا تھا، بعد میں مادھو راؤ سولنکی اور چمن بھائی پٹیل جیسے بہترین منتظمین بھی سامنے آئے۔ ان میں سے کسی کو بھی کبھی ان کی ریاست سے جلا وطن نہیں کیا گیا۔ شرد پوار نے کہا کہ وزرائے داخلہ کو بولنے کا حق ہے، لیکن اگر تھوڑی سی معلومات لے کر بات کی جائے تو عوام کے ذہنوں میں شبہات پیدا نہیں ہوتے۔
مزید گفتگو میں شرد پوار نے کہا کہ 1978 سے ان افراد کو میری معلومات ملی۔ 1958 سے میں سیاست میں سرگرم ہوں۔ 78 کے دور میں یہ لوگ کہاں تھے، مجھے معلوم نہیں۔ لیکن اس وقت میں مہاراشٹر کا وزیر اعلیٰ تھا۔ میری حکومت میں جن سنگھ کے رہنما اتم راؤ پاٹل، ہشو اڈوانی، اور پرمیلا تائی جیسے افراد شامل تھے۔ جن سنگھ کے افراد نے میرے ساتھ رہ کر ریاست کے لیے کام کیا۔ اڈوانی جی شہری ترقیات کے وزیر تھے، اور جن سنگھ کے پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد نے ہمیں ہمیشہ تعاون دیا۔ اسی دوران وشنو راؤ بھاگوت اور پرمود مہاجن جیسے رہنماؤں نے بھی ہماری حمایت کی۔ بعد میں اٹل بہاری واجپئی اور اڈوانی جیسے قابل افراد بی جے پی میں نمایاں رہے۔
شرد پوار نے مزید کہا کہ آج کے وزیر داخلہ کا رویہ ان عظیم رہنماؤں کے برعکس ہے۔ انہوں نے گجرات کے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب یہ شخص گجرات میں بھی نہیں رہ سکتا تھا اور اسے ممبئی میں بالاصاحب ٹھاکرے کے گھر پناہ ملی تھی۔ اس وقت انہوں نے بالاصاحب سے مدد مانگی تھی۔ شرد پوار نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ آج کے وزرائے داخلہ کے بیانات کی سطح کتنی نیچے گر گئی ہے۔ ان کے بیانات کے حوالے سے پارٹی میں کیا فیصلہ کیا جائے گا، یہ کہنا مناسب نہیں۔