ممبئی: وزیراعظم مودی کا اعلان کردہ 20لاکھ کروڑ روپئے کے معاشی پیکیج کا پردہ فاش کرنے کے لیے مہاراشٹر یوتھ کانگریس کی ریاست گیر تحریک کے آخری دن آج بی جے پی کے دفتر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے یہ سوال کیا گیا کہ ’مودی جی! کہاں گئے وہ 20لاکھ کروڑ روپئے؟‘۔ ممبئی میں بی جے پی کے دفتر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے پولیس نے یوتھ کانگریس کے ریاستی صدر ستیہ جیت تانمبے وان کے ساتھیوں کو حراست میں لے لیا۔ اس موقع پر ستیہ جیت تانمبے نے کہا کہ ’کہاں گئے وہ 20لاکھ کروڑ روپئے؟‘ اس سوال سے مودی وبی جے پی اس قدر خوفزدہ کیوں ہے؟
واضح رہے کہ مہاراشٹر یوتھ کانگریس کے ذریعے مرکزی حکومت کے خلاف چلائی گئی اس ریاست گیر تحریک کے دوران 10سے 14/اگست کے دوران یوتھ کانگریس کے کارکنان وعہدیداران نے گاؤں گاؤں جاکر لوگوں سے یہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی مودی کے ذریعے اعلان کردہ 20لاکھ کروڑ روپئے کے معاشی پیکیج کا انہیں کچھ فائدہ حاصل ہوا یا نہیں۔ اس کے علاوہ چھوٹے کاروباریوں، اوسط طبقے کے تاجروں،دوکانداروں وکارخانہ چلانے والوں سے بھی یوتھ کانگریس نے رابطہ کیا اور ان سے اس معاشی پیکیج کے بارے میں بات چیت کی۔ اسی طرح ملازمت پیشہ لوگوں سے بھی اس بابت دریافت کیا گیااور ان کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی۔ یوتھ کانگریس کے مطابق کسی بھی طبقے نے مودی کے 20لاکھ کروڑ روپئے کے بارے میں کوئی مثبت رائے نہیں دی اور سبھی کا کہنا تھا کہ اس معاشی پیکیج سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ستیہ جیت تانمبے کے مطابق عوام سے بڑے پیمانے پر رابطہ قائم کرنے اور ان کی رائے جاننے کے بعد یہ ثابت ہوتا ہے کہ مودی کا اعلان کردہ 20 لاکھ کروڑ روپئے ملک کی عوام کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق تھا اور یہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے تھا۔ اسی وجہ سے مودی اور بی جے پی اس سوال سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ آخر وہ 20لاکھ کروڑ روپئے کہاں گئے؟ ستیہ جیت تانمبے نے بی جے پی کے دفتر کے سامنے احتجاج کے موقع پرگرفتاری کے بعدکہا کہ جب ہمیں عوام سے اس 20لاکھ کروڑ روپئے کے بارے میں کوئی مثبت جواب نہیں ملا تو ہم بی جے پی کے دفترمیں جاکر ان سے یہ سوال کرنا چاہتے تھے کہ پولیس نے ہمیں گرفتار کرلیا۔ لیکن اس گرفتاری سے یہ عوامی سوال ختم نہیں ہوجاتا۔ یوتھ کانگریس اس وقت تک مودی جی اور بی جے پی سے یہ سوال کرتی رہے گی۔