اسمبلی کے لیے 288 سیٹوں کے تنظیمی ڈھانچے پر زور، بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہی واحد مقصد: نانا پٹولے

اگر اسمبلی کی نشستیں میرٹ کے مطابق تقسیم ہوئیں تو ایم وی اے کی تمام پارٹیوں کو اس کا فائدہ ہوگا

نیٹ امتحان میں صرف گریس مارک منسوخ کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، امتحان رد کرتے ہوئے اس کی سی بی آئی انکوائری کی جائے

ممبئی: لوک سبھا انتخابات میں مہاوکاس اگھاڑی کو بہتر کامیابی حاصل کی لیکن یہ کامیابی مزید سیٹوں پر حاصل ہو سکتی تھی۔ آنے والے اسمبلی انتخابات میں اگر میرٹ کے مطابق سیٹوں کی تقسیم ہو تو اچھے نتائج آسکتے ہیں۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہا ہے کہ کانگریس پارٹی مہاوکاس اگھاڑی کے طور پر اسمبلی انتخابات لڑے گی اور ریاست کے 288 اسمبلی حلقوں کے تنظیمی ڈھانچے پر توجہ مرکوز کرے گی۔ ہمارا مقصد ریاست سے بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہے۔

ناگپور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے دوران کانگریس نے ریاست کی تمام 48 سیٹوں پر تنظیمی ڈھانچہ ترتیب دیا تھا، جس کا فائدہ کانگریس پارٹی کے ساتھ ساتھ مہاوکاس اگھاڑی کو بھی ہوا۔ اس وقت بھی اسمبلی کی 288 سیٹوں پر پارٹی کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اگر ہم مل کر لڑنا ہے تو ہمیں تنظیمی تیاری کرنی ہوگی۔ اگر کانگریس تمام سیٹوں پر تیاری کرتی ہے تو اس کا فائدہ اتحادی پارٹیوں کو بھی ہوگا۔

ناناپٹولے نے کہا کہ اگر لوک سبھا سیٹوں کی تقسیم کے دوران میرٹ پر غور کیا گیا ہوتا مزید بہتر نتائج آسکتے تھے۔ ریاست میں بی جے پی حکومت کو اقتدار سے ہٹانا ضروری ہے۔ مہایوتی حکومت میں کسانوں کے نام پر کروڑوں روپے لوٹے گیے۔ وزیراعلیٰ نے بغیر ٹینڈر نکالے ڈی بی ٹی اسکیم کے ذریعے لوٹا۔ حکومت کے پاس کسانوں کو دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں لیکن ان کے نام پر لوٹ مار جاری ہے۔ محکمہ تعمیرات کی زمینیں گروی رکھ کر قرضہ لیا گیا ہے۔ نانا پٹولے نے یہ بھی کہا کہ ریاست کے عوام کو قرضوں میں ڈبویا جا رہا ہے۔

میڈیا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ یہ واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے کہ چھگن بھجبل مطمئن نہیں ہیں۔ بی جے پی نے ہمیشہ او بی سی کی قیادت کو نظر انداز کیا ہے۔ اگر کوئی او بی سی لیڈر بی جے پی کے قریب ہے تو اسے نشانہ بنایا جائے گا۔ گوپی ناتھ منڈے کے ساتھ کیا ہوا یہ سب کو معلوم ہے۔ انہوں نے چھگن بھجبل جیل میں ڈالا تھا۔ اس وقت وہ ڈاکو تھے اور اب وہ سادھو بن گئے ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کو او بی سی کے ووٹ چاہئے لیکن او بیسی لیڈر نہیں۔

نیٹ کے بارے میں ریاستی صدر نے کہا کہ یہ صرف نیٹ امتحان میں گریس نمبروں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ امتحان میں بدعنوانی کا مسئلہ ہے، پیپر لیک ہوا ہے۔ یہ ملک بھر کے 2.4 لاکھ طلباء کے مستقبل کا سوال ہے جنہوں نے نیٹ امتحان میں شرکت کی ہے۔ امتحانی مرکز اور کوچنگ کلاسز کے درمیان ناپاک گٹھ جوڑ ہے۔ مرکز کی بی جے پی حکومت این ٹی اے کے کندھے پر بندوق رکھ کر اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ کانگریس پارٹی کا مطالبہ ہے کہ اس گھوٹالے کی سی بی آئی انکوائری ہونی چاہیے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading