’ہمیں ثواب ملے گا‘ — ہمایوں کبیر کے بابری والے پلاٹ پر جمعہ کی نماز میں عوام کا سیلاب

نئی دہلی؛مرشدآباد کے بیلڈانگا علاقے میں ہمایوں کبیر کے اس پلاٹ پر، جہاں چند روز قبل بابری مسجد کی بنیاد رکھی گئی تھی، آج جمعے کی پہلی نماز میں ہزاروں کی تعداد میں نمازیوں نے شرکت کی۔ نماز کے بعد شرکاء کے لئے کھانے کا خصوصی انتظام بھی کیا گیا تھا، جس کے لیے تقریباً ایک ہزار افراد کا لنگر تیار کیا گیا۔

نمازیوں کا جمِ غفیر

جمعے کی نماز کا وقت ہوتے ہی مختلف علاقوں سے لوگ بڑی تعداد میں مجوزہ مسجد کی جگہ پر پہنچے۔ تصویروں میں واضح دیکھا گیا کہ لوگ سرسوں کے ہرے کھیت عبور کرتے ہوئے نماز کی جگہ کی جانب جاتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے راستہ بتایا جا رہا تھا۔ منتظمین نے آنے والے نمازیوں کے لئے کھانے پینے کا اہتمام بھی کیا تھا۔

ہزاروں کے لئے کھانے کا انتظام

کھانا تیار کرنے والے ایک شخص نے این ڈی ٹی وی سے گفتگو میں کہا،
“ہم نے کھانے کا انتظام کیا ہے، لوگوں کو کھلانے سے ہمیں ثواب ملے گا۔ اندازہ نہیں کہ کتنے لوگ آئیں گے، لیکن جمعے کی نماز میں بہت سے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ ابھی مسجد بنی نہیں، مگر ہمارے لیے آغاز ہو چکا ہے۔”

گزشتہ 6 دسمبر کو ہمایوں کبیر نے بیلڈانگا میں بابری مسجد کی بنیاد رکھی تھی، جس موقع پر سینکڑوں افراد موجود تھے۔ آج جمعہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ نماز ادا کرنے کے لیے پھر وہاں جمع ہوئے۔ پڑوسی علاقے پلاشے سے بھی درجنوں کسان بیلڈانگا پہنچے اور ہزاروں افراد کے لیے کھچڑی تیار کی، جس کے لیے تقریباً ڈیڑھ کوئنٹل چاول استعمال ہوا۔

مسجد کے لیے عطیات میں اضافہ

ہمایوں کبیر کے مجوزہ بابری مسجد منصوبے کے لیے عوام بھرپور طریقے سے عطیات دے رہے ہیں۔ رقم جمع کرنے کے بکسے نوٹوں سے بھر رہے ہیں، جبکہ جمعے کی بھیڑ کے پیشِ نظر منتظمین نے کیو آر کوڈ کے ذریعے آن لائن عطیات کی سہولت بھی فراہم کی ہے۔

یاد رہے کہ مرشدآباد میں بابری مسجد کی بنیاد رکھنے کے بعد ملک بھر میں سیاسی ردِعمل سامنے آئے۔ بی جے پی نے اس معاملے پر ممتا بنرجی کو گھیرنے کی کوشش کی، جبکہ ٹی ایم سی نے اس پورے معاملے کو بی جے پی کی سازش قرار دیا۔ دوسری جانب ہمایوں کبیر کا کہنا ہے کہ مسجد کی تعمیر کے لیے کسی سیاسی جماعت نے نہیں، بلکہ عوام نے دل کھول کر عطیات دیے ہیں، جس کی ویڈیو انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر بھی شیئر کی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading