MPCC Urdu News 11 Dec 24

پیسوں کے زور پر جمہوریت خریدنے کی کوشش کا مطلب ’آپریشن لوٹس‘: نانا پٹولے

ناگپور اجلاس کم از کم ایک ماہ کا ہونا چاہیے، مباحثے سے بچنے کے لیے پانچ دن کا اجلا س

رات کے اندھیرے میں ووٹ بڑھا کر جمہوریت کا قتل، الیکشن کمیشن عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والے شبہات دور کرے

ممبئی؛ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ہندوستان میں جمہوریت کو ختم کرنے کا جرم کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی تمام حکومتی اداروں کے ذریعے جمہوریت کو روند رہی ہے اور الیکشن کمیشن کے ذریعے عوام کے ووٹوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ ملک میں اپوزیشن کو ختم کرنا بی جے پی کا مقصد ہے، اسی لیے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ مہاراشٹر میں ‘آپریشن لوٹس’ ہوا اور اب لوک سبھا میں بھی اسی طرح کی کوشش جاری ہے۔ بدعنوانی کے ذریعے سے حاصل کیے گئے پیسوں کے ذریعے جمہوریت خریدنے کی کوشش کو ‘آپریشن لوٹس’ کہا جا رہا ہے، جس کی ہم سخت مذمت کرتے ہوئے۔ یہ باتیں کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہی ہیں۔

ناگپور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے نے مزید کہا کہ اسمبلی انتخابات کے بعد ریاست میں آنے والی حکومت عوام کی نمائندہ نہیں ہے۔ عوام کے دلوں میں یہ شبہ ہے کہ ان کے ووٹوں پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ مہاراشٹر کے بعد اب یہ احساس قومی سطح پر بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ گرام سبھائیں قراردادوں کے ذریعے بیلٹ پیپر پر ووٹنگ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ رات کے اندھیرے میں 76 لاکھ ووٹ کیسے بڑھائے گئے، اس بابت الیکشن کمیشن نے ابھی تک کچھ نہیں بتا سکا ہے۔ یہ جمہوریت کا قتل ہے اور اگر الیکشن کمیشن نے اطمینان بخش جواب نہیں دیا تو ہم سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

مہایوتی حکومت کا پہلا اجلاس ناگپور میں ہو رہا ہے۔ ریاست کے عوام مختلف مسائل سے دوچار ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، نوکریوں کی بھرتی، کسانوں کی خودکشیاں اور زرعی پیداوار کو مناسب قیمت کی فراہمی جیسے مسائل پر اجلاس میں بحث ہونی چاہیے۔ کسانوں کے تین لاکھ روپے تک کا قرض معاف کیا جانا چاہیے اور نوکریوں کی بھرتی کا منصوبہ واضح ہونا چاہیے۔ ان مسائل پر ناگپور کے اجلاس میں جامع بحث متوقع تھی، اسی لیے اجلاس کو کم از کم ایک ماہ کا ہونا چاہیے، لیکن بی جے پی حکومت نے صرف پانچ دن کا اجلاس رکھا ہے تاکہ بحث سے بچا جا سکے۔

ایک سوال کے جواب میں نانا پٹولے نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے بارے میں مہا وکاس اگھاڑی میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ تینوں پارٹیاں مل کر اپوزیشن لیڈر کا نام طے کریں گی اور ناگپور اجلاس میں اس پر فیصلہ کیا جائے گا۔ کانگریس نے اپنے قانون ساز پارٹی لیڈر اور گروپ لیڈر کے انتخاب کے تمام اختیارات اعلیٰ قیادت کو دے دیے ہیں، اور اس پر جلد ہی فیصلہ ہوگا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading