غذائی قلت کے خلاف جنگ میں کامیابی: تھانے ضلع میں بچوں کی صحت میں نمایاں بہتری
سوکھے کے مرض میں مبتلا بچوں کی تعداد میں مسلسل کمی
تھانے (آفتاب شیخ)

تھانے ضلع میں غذائی قلت کے خلاف مہم کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ضلع پریشد کی جانب سے چلائے جانے والے سہ رخی پروگرام، جس میں مشاورت، تربیت، اور براہ راست غذائی منصوبہ شامل ہیں، کے تحت شدید غذائی قلت (SAM) اور درمیانی غذائی قلت (MAM) کا شکار بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
دیہی علاقوں میں ستمبر 2024 کے آخر تک شدید غذائی قلت والے 88 بچے تھے، جو نومبر 2024 کے آخر تک کم ہو کر 22 رہ گئے ہیں۔ اسی طرح درمیانی غذائی قلت والے بچوں کی تعداد 1,023 سے کم ہو کر 62 ہو گئی ہے۔
ضلع پریشد کے چیف ایگزیکٹو آفیسر روہن گھوگے کی قیادت میں 1,647 آنگن واڑی مراکز کے ذریعے 83,427 بچوں کے لیے مشاورت، تربیت، اور متوازن غذا پر مشتمل پروگرام چلایا جا رہا ہے۔ والدین کے لیے خصوصی تربیتی نشستیں منعقد کی جا رہی ہیں، جہاں انہیں بچوں کے روزمرہ معمولات، کھانے کے اوقات، اور متوازن و غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
غذائی قلت کے خلاف اس مہم میں آئی آئی ٹی بمبئی جیسے معتبر اداروں کی مدد لی جا رہی ہے۔ ویڈیو ٹریننگ اور والدین کو براہ راست مشورے کے ذریعے بچوں کی نگہداشت کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔
ضلع انتظامیہ حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کو غذائی کٹس فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اختراعی منصوبے جیسے "بَلَنٹویدا" اور خصوصی غذائی سپلیمنٹس متعارف کروا رہی ہے۔ فلاحی تنظیموں جیسے سنیہا فاؤنڈیشن اور انندا فاؤنڈیشن کے تعاون سے غذائی قلت کے شکار بچوں کے لیے خصوصی اقدامات خاص طور پر ڈولکھم اور شہاپور پروجیکٹس میں کیے جا رہے ہیں۔
غذائی قلت کے اعداد و شمار میں مسلسل بہتری آرہی ہیں۔
ستمبر 2024: شدید غذائی قلت (SAM) والے 88 بچے، درمیانی غذائی قلت (MAM) والے 1,023 بچے
اکتوبر 2024: شدید غذائی قلت والے 76 بچے، درمیانی غذائی قلت والے 1,009 بچے
نومبر 2024: شدید غذائی قلت والے 66 بچے، درمیانی غذائی قلت والے 961 بچے
تھانے ضلع میں غذائی قلت کے خلاف اقدامات کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اجتماعی کوششوں اور منظم منصوبہ بندی سے بچوں کی صحت کو پہتر بنایا جاسکتا ہے۔ یہ مہم آئندہ بھی جاری رہے گی تاکہ مستقبل کا ہر بچہ صحت مند اور خوشحال ہو۔