MPCC Urdu News 11 Dec 23

ریاست کے متاثرہ کسانوں کاقرض یک مشت معاف کیاجائے: نانا پٹولے

عوام دشمن بی جے پی حکومت کو ہٹائیے اور کانگریس پارٹی کی حکومت لائیے: بالاصاحب تھورات

سوئی ہوئی حکومت کو جگانے کے لیے کانگریس کا ہلاّ بول مورچہ: اشوک چوہان

جمہوریت اور ڈاکٹر بابا صاحب کے آئین کو بچانے کے لیے ہلا بول مورچہ: وجے وڈیٹی وار

دیکشا بھومی سے مورس کالج تک تین پارٹیوں کی حکومت کے خلاف کانگریس کا زبردست ہلابول مارچ

ناگپور/ممبئی:ریاست میں کسانوں، کھیت مزدوروں، محنت کشوں اور بے روزگاروں کے مسائل نہایت سنگین ہیں لیکن بی جے پی کی اندھی، بہری اور گونگی حکومت اس پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔ سوالوں کے جوابات وزیر اعلیٰ نہیں بلکہ سپر وزیراعلیٰ دیتے ہیں۔ سپر وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسانوں کی بہت مدد کی ہے لیکن یہ مدد کسانوں تک نہیں پہنچی۔ سوال یہ ہے کہ اگرحکومت نے کسانوں کی مددکی تو یہ مدد گئی کہاں؟ ریاست میں ایک طرف خشک سالی ہے اور دوسری طرف ژالہ باری۔ بے موسم بارشوں سے کسانوں کازبردست نقصان ہوا ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کسانوں کے قرض فوری طور پر معاف کرے کیونکہ وہ زبردست پریشانی میں ہیں۔

مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے کی قیادت میں دیکشا بھومی سے ودھان بھون تک مارچ نکالا گیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر قانون ساز پارٹی کے لیڈر بالاصاحب تھورات، اپوزیشن لیڈر وجے ودیٹی وار، سابق وزیراعلیٰ اشوک چوہان، پرتھوی راج چوہان، تلنگانہ کے انچارج مانیک راؤ ٹھاکرے، سابق مرکزی وزیر ولاس متیموار، سابق وزیر سنیل کیدار، ڈاکٹر نتن راؤت، یشومتی ٹھاکر، ورشا گائیکواڑ، امیت دیشمکھ، قانون ساز کونسل کے گروپ لیڈر ستیج بنٹی پاٹل، سابق وزیر سریش ورپوڈکر، سابق وزیر وشواجیت کدم، ریاستی ایگزیکٹو صدر نسیم خان، ایم ایل اے پرنیتی شندے، بسوراج پاٹل، کنال پاٹل، چندرکانت ہنڈورے، ایم ایل اے بھائی جگتاپ، ایم ایل اے وجاہت مرزا، خواتین کانگریس کی ریاستی صدر سندھیا سوالاکھے، سیوا دل کے ریاستی صدر ولاس اوتاڈے، یوتھ کانگریس کے ریاستی صدر کنال راؤت، این ایس یو آئی کے ریاستی صدر عامر شیخ، ایس سی ڈیپارٹمنٹ کے ریاستی صدر سدھارتھ ہٹیامبیرے، ایم ایل اے ابھیجیت ونجاری، سبھاش دھوٹے، امیت جھنک، ناگپور شہر کے صدر وکاس ٹھاکرے، ناگپوردیہی کے صدر راجندر ملک، ریاستی جنرل سکریٹری دیوآنند پوار، پرمود مورے، چیف ترجمان اتل لونڈھے، سوشل میڈیا کے سربراہ وشال متیموار، مدن جادھو سمیت کئی رہنما موجود تھے۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے دور میں ریاست میں جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ آج مہاراشٹر جرائم، بدعنوانی اور فسادات میں ملک میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس حکومت کو کسانوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اس نے بے روزگاروں کا مذاق اڑایا ہے۔ ضلع پریشد اسکول بند کیے جارہے ہیں لیکن حکومت جھوٹ بول کر لوگوں کو گمراہ کررہی ہے۔ حال ہی میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی کو چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش سے ملحق مہاراشٹر کے سرحدی علاقوں میں کافی عوامی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ اس علاقے سے کانگریس کے 75 سے 100 فیصد امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہاراشٹر میں بھی کانگریس کی لہر ہے۔ پٹولے نے کہا کہ اگر بی جے پی اتنی مضبوط ہے تو تین ریاستوں میں جیتنے کے بعد اسے مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات کروا کر دکھائے۔ بی جے پی کو یہ بھی معلوم ہے کہ لوگ ان کے خلاف ہیں، اس لیے انہیں انتخابات میں شکست کا خوف ہے۔پٹولے نے کہا کہ جب وزیر اعظم نریندر مودی نے چھتیس گڑھ میں دھان کی قیمت 3100 روپے اور بونس 1000 روپے اور سلنڈر 450 روپے کا اعلان کیا تو مہاراشٹر میں کیوں نہیں دیا گیا۔ بی جے پی حکومت کو اس کا جواب دینا ہوگا۔ یاد رکھیں ہلا بول مورچہ حکومت کے لیے وارننگ ہے۔ کسانوں اور بے روزگاروں کو انصاف ملنے تک ہم خاموش نہیں رہیں گے۔

اس موقع پر بالاصاحب تھورات نے کہا کہ مہنگائی عروج پر ہے اور لوگوں کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوکریاں نہیں مل رہیں۔ یہ عوام کے سلگتے سوال ہیں لیکن حکومت ان پر توجہ نہیں دے رہی۔ کسانوں اور مزدوروں کی حالت بہت خراب ہیں۔ یہ حکومت وعدے تو بہت کرتی ہے لیکن انہیں پورا نہیں کرتی۔ بیمہ کمپنیاں کسانوں کو دھوکہ دے رہی ہیں لیکن حکومت اس پر کچھ نہیں کر رہی ہے۔ مرکز میں بی جے پی کی حکومت جمہوریت کو کمزور کرکے گزشتہ ساڑھے نو سال سے برسراقتدار ہے۔ مہاراشٹر میں بھی ایم ایل ایز کو توڑ کر حکومت گرائی گئی ہے۔ اب ریاست کے عوام کو اس حکومت کو ہٹادیناچاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کے عام لوگ بی جے پی کی حکومت کو ہٹاکر کانگریس کی حکومت لانا چاہتے ہیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعلی اشوک چوہان نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس نے چھ ضمانتیں دی تھیں اور عوام نے ووٹ دے کر اقتدار کانگریس کو سونپ دیا تھا۔ کرناٹک میں کانگریس نے بھی گارنٹی دی اور وہاں کانگریس کی حکومت آگئی۔ اب ہم مہاراشٹر میں کانگریس کی حکومت لائیں گے۔ یہاں بے روزگاری کی تعداد بڑھی ہے لیکن حکومت نے پانچ سالوں میں بھرتی نہیں کی۔ ایم پی ایس سی کے امتحانات منعقد نہیں ہوئے۔ گاؤں میں بجلی، پانی اور کاشتکاری کابحران ہے۔ بے روزگاروں، کسانوں، خواتین، کھیت مزدوروں، صفائی کے کارکنوں کے مسائل ہیں۔ حکومتی وزراء ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں لیکن عوام کے مسائل حل نہیں کررہے ہیں۔ آج کا مارچ صرف کانگریس کا نہیں ہے بلکہ عوامی غصے کا ہے اور یہ ہلابول مہا یوتی کی سوئی ہوئی حکومت کو جگانے کے لیے ہے۔

قائد حزب اختلاف وجے وڈیٹی وار نے کہا کہ ریاست میں کسان خشک سالی، ژالہ باری اور بے موسم کی بارش سے زبردست پریشانی کے شکار ہیں۔ ہم اسمبلی اجلاس میں کسانوں کو انصاف دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن حکومت سن نہیں رہی ہے۔ اب کسان خود حکومت کو سبق سکھائے بغیر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ شندے-پوار-فڈنویس کی حکومت کسانوں کو برباد کر رہی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading