کفایتی رہائش کے لیے کانگریس کا مختلف تنظیموں کے ساتھ عوامی مہم
ممبئی کی زمینوں کا وائٹ پیپر جاری کیا جائے: ہرش وردھن سپکال
بی جے پی۔مہا یوتی حکومت نے پسندیدہ صنعتکاروں کو ممبئی کی قیمتی زمینیں کوڑیوں کے بھاؤ پر دے دیں، مگر عام شہریوں کے لیے گھروں کی کوئی فکر نہیں
کسانوں کی قرض معافی پر وزیر بالا صاحب پاٹل کا بیان شرمناک، وزیرِاعلیٰ میں ذرا بھی غیرت باقی ہے تو فوراً برطرف کریں
ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ ممبئی سمیت پورے مہاراشٹر میں گھروں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ کانگریس حکومت نے جو کفایتی رہائش اسکیم شروع کی تھی، وہ عوام کے لیے نہایت فائدہ مند تھی اور اسے بڑے پیمانے پر دوبارہ نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ ملوں کی زمینوں کے 33/33/33 فارمولے کے تحت جو 33 فیصد سرکاری زمینیں عوامی مفاد کے لیے مخصوص تھیں، وہ صنعتکاروں کے حوالے کی جا رہی ہیں۔ یہ عمل فوری طور پر روکا جائے اور انہی زمینوں پر عام شہریوں کے لیے گھروں کی اسکیم نافذ کی جائے۔ اس مقصد کے لیے کانگریس نے 25 مختلف تنظیموں کے ساتھ ایک مشترکہ عوامی مہم کا آغاز کیا ہے۔
گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ کانگریس حکومت نے مہاڈا کے ذریعے سستی رہائش کا منصوبہ شروع کیا تھا اور بعد میں مل مزدوروں کو مکانات دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایک لاکھ دس ہزار مزدوروں کو گھر دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر اب تک صرف پندرہ ہزار گھروں کی تقسیم ہوئی ہے۔ باقی زمینیں صنعتکاروں کی جیبوں میں ڈال دی گئی ہیں۔ بی جے پی۔مہا یوتی حکومت نے ممبئی کو بیچنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ دھاروی کو بھی آدھی قیمت میں فروخت کر دیا گیا۔ ایئرپورٹ سمیت دیگر قیمتی زمینیں بھی پسندیدہ صنعتکاروں کے حوالے کی جا رہی ہیں۔ جس طرح دہلی والوں نے اپنے پسندیدہ صنعتکار کو پروان چڑھایا، اسی طرح وزیرِاعلیٰ دیویندر فڑنویس نے بھی’کمبھوج‘ نامی ایک نئے صنعتکار کو آگے بڑھایا ہے اور ممبئی کی زمینیں و ایس آر اے کی جائیدادیں اسی کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
سپکال نے بتایا کہ اس بدعنوانی کے خلاف آئندہ اتوار، 12 اکتوبر کو سہ پہر 3 بجے تلک بھون، دادَر میں ’گھر حق پریشد‘ کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں وہ خود، سابق رکنِ پارلیمنٹ کمار کیتکر، کانگریس کے اقتصادی شعبے کے صدر وشواس اُتگی، دھرم ر اجیہ پارٹی کے راجن راجے، اِنٹک کے مہاراشٹر سکریٹری گووند موہِتے، شیشِر دھاولے، سُکمار داملے، وجے کلکرنی، کامریڈ ملِند رانڈے، شری پاد لوٹلیکر اور شیلش ساونت شریک ہوں گے۔
میڈیا کے ایک سوال پر ہرش وردھن سپکال نے وزیر بالا صاحب پاٹل کے اس بیان کی شدید مذمت کی کہ ’کسانوں کو قرض معافی کی لت لگ گئی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان کسانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ جب کسان فصل تباہی کے دہانے پر ہیں، تو وزیر کا ایسا بیان بے حسی اور شرمناکی کی انتہا ہے۔ فڑنویس حکومت کے وزرا مغرور، بے شرم اور غیر ذمہ دار ہو چکے ہیں۔ ایسے وزیر کو فوراً کابینہ سے برطرف کرنا چاہیے، مگر افسوس کہ وزیرِاعلیٰ فڑنویس خود ایسے وزیروں کے محافظ بنے بیٹھے ہیں، جو مہاراشٹر کے لیے بدقسمتی کی بات ہے۔
سپکال نے کہا کہ کانگریس نے بلدیاتی انتخابات کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ریاست کے تمام اضلاع میں جائزہ اجلاس مکمل ہو چکے ہیں، ووٹر لسٹوں کی جانچ جاری ہے اور امیدواروں سے درخواستیں منگوائی جا رہی ہیں۔ یہ درخواستیں ضلع کانگریس کمیٹیوں کے پاس جمع ہوں گی، جن کی بنیاد پر پردیش کانگریس امیدواروں کا انتخاب کرے گی۔ بلدیاتی انتخابات میں اتحاد کا فیصلہ مقامی سطح پر کیا جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں سپکال نے طنزیہ لہجے میں کہا کہ کبوترخانوں کی فکر کرنے والے وزیروں کو انسانوں کی صحت کا خیال بھی رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر منگل پربھات لوڈھا اگر واقعی فلاحی جذبے سے بھرے ہیں تو ’لوڈھا کبوترخانہ ٹاور‘ تعمیر کر کے دکھائیں۔ سپکال نے مزید کہا کہ ورہہ جینتی کے بعد اب بی جے پی ’چھٹھ پوجا‘ کا مسئلہ اٹھا رہی ہے۔ ممبئی میونسپل الیکشن سے پہلے بی جے پی کو ہمیشہ مذہب، ذات پات اور تہواروں کی یاد آ جاتی ہے، یہی ان کی سیاسی روایات ہیں۔
اس پریس کانفرنس میں سابق رکنِ پارلیمنٹ کمار کیتکر، کانگریس کے اقتصادی شعبے کے صدر وشواس اُتگی، دھرمر اجیہ مزدور تنظیم کے راجن راجے، اِنٹک کے گووند موہِتے، سربھارت شرتک سنگھ کے شیشِر دھاولے، آیتک کے سُکمار داملے، مزدور تنظیم کے وجے کلکرنی، ملِند رانڈے، شری پاد لوٹلیکر اور شیلش ساونت بھی شریک تھے۔
MPCC Urdu News 10 October 25.docx