بدعنوان مہایوتی حکومت کی پیسوں کی بے دریغ بربادی، سرکاری اشتہارات کے لیے ٹینڈر پر ٹینڈر: اتل لونڈھے

حکومت کی ڈیجیٹل اشتہارات کے لیے 90 کروڑ اور SMS کے لیے 24 کروڑ کے ٹینڈر

ممبئی: بھارتیہ جنتا پارٹی اور شندے حکومت کے آخری دنوں میں لوٹ کھسوٹ کا عمل تیز سے تیز تر ہوتا جا رہا ہے۔ کابینہ کے اجلاس میں کروڑوں روپے کے ٹینڈرز منظور کیے جا رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مال بٹورا جا سکے۔ حکومت نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اشتہارات کے لیے 90 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاری کیا ہے، جو محض پانچ دنوں میں خرچ کرنا ہے۔ اسی طرح کابینہ نے عوام تک اپنے فیصلے ایس ایم ایس کے ذریعے پہنچانے کے لیے 23 کروڑ روپے کے ایک اور ٹینڈر کو بھی منظوری دی ہے۔

ریاستی کانگریس کے ترجمان اتل لونڈھے نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ بدعنوان مہایوتی حکومت جاتے جاتے عوام کے پیسے کی بے دریغ بربادی کر رہی ہے۔ لونڈھے کا کہنا ہے کہ ریاست پر پہلے ہی آٹھ لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض ہے، لیکن حکومت پھر بھی کمیشن لینے کے چکر میں اندھا دھند ٹینڈرز جاری کر رہی ہے۔ کابینہ کے فیصلے عوام تک پہنچانے کے لیے 23 کروڑ روپے کی رقم صرف ایس ایم ایس کے لیے مختص کی گئی ہے، جس کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔

لونڈھے نے نشاندہی کی کہ اس سے پہلے ’لاڈکی بہین یوجنا‘ کے اشتہارات کے لیے 450 کروڑ روپے کے خرچ کی منظوری دی گئی تھی جبکہ اس اسکیم کے تحت منعقدہ پروگراموں پر سرکاری خزانے سے بے تحاشہ رقم خرچ کی جا رہی ہے۔ ان پروگراموں کے ذریعے ایکناتھ شندے، دیویندر فڈنویس اور اجیت پوار اپنی پارٹیوں کا بھرپور تشہیر کر رہے ہیں۔ اتل لونڈھے نے مزید کہا کہ بی جے پی اور شندے حکومت نے صرف ڈھائی سال کے عرصے میں مہاراشٹر کے عوام کے سر پر قرض کا بڑا بوجھ ڈال دیا ہے اور اس بے دریغ بربادی کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading