مہاراشٹر میں منسے ک ساتھ اتحاد پر ابھی کوئی بات نہیں ہوئی ہے

کانگریس امیدواروں کے 35 ہزار درخواستیں موصول، 12 تاریخ کی پارلیمنٹ بورڈ میٹنگ میں فیصلے کا امکان

ممبئی: مہاراشٹر نونرمان سینا کے ساتھ ممکنہ اتحاد یا انتخابی سمجھوتے کے بارے میں ابھی تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی سطح پر کوئی مشاورت جاری ہے۔ یہ وضاحت مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ناسک میں آج جو میٹنگ ہوئی، اس میں کانگریس کی نمائندگی کے نام پر شریک ہونے والے افراد کو پارٹی نے نہ تو نامزد کیا تھا اور نہ ہی ان کی شرکت سے پارٹی کا کوئی تعلق ہے۔ ایسے افراد کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کی جا رہی ہے تاکہ اس غیر مجاز شرکت کا تعین کیا جا سکے۔

ہرش وردھن سپکال نے یہ بات بلڈھانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں میونسپل اور نگر پنچایت انتخابات کا شیڈول جاری ہو چکا ہے اور کانگریس کے پاس اب تک 35 ہزار درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ ان درخواستوں کی جانچ جاری ہے اور 12 تاریخ کو ریاستی پارلیمنٹری بورڈ کی میٹنگ میں امیدواروں کے سلسلے میں حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ سپکال کے مطابق پارٹی کے کئی رہنما اور کارکن اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کا انتخاب کانگریس کو اپنے بل پر لڑنا چاہیے، لیکن چونکہ انتخابی شیڈول ابھی جاری نہیں ہوا، لہٰذا اس سلسلے میں کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ انتخابی اعلان کے بعد ہی کوئی فیصلہ سامنے آئے گا۔

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ موہن بھاگوت کی تقاریر اور دعوے اب خود سنگھ پریوار میں سنجیدگی سے نہیں لیے جاتے۔ ان کے مطابق بھاگوت کے خیالات مستقل طور پر بدلتے رہتے ہیں اور وہ کبھی بھی سماجی ناانصافی، چھوا چھوت یا عورتوں اور مردوں کی مساوات جیسے مسائل پر گفتگو نہیں کرتے، بلکہ مخصوص طبقے کی بالادستی کی بات کرتے رہتے ہیں۔ سپکال نے کہا کہ بھاگوت کے ’احکامات‘ کو وزیراعظم نریندر مودی نے بھی نظرانداز کیا جب 75 سال کے بعد ریٹائرمنٹ کی ہدایت کو انہوں نے قبول نہیں کیا۔ اسی طرح اجیت پوار کو حکومت میں شامل نہ کرنے کی ہدایت وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس نے بھی نہیں مانی۔ اگر سنگھ سربراہ کی بات ان کے اپنے حلقے میں نہیں مانی جاتی تو عوام کیوں سنیں گے؟

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading