عام بجٹ میں دلکش نعروں، بیان بازیوں، نمبروں کے کھیل اور سنہرے خوابوں کے سوا کچھ نہیں: نانا پٹولے
2022 میں کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے اعلان کا کیا ہوا؟
مہنگائی اور بے روزگاری کم کرنے کی کوئی پالیسی نہیں
مرکزی بجٹ سے مہاراشٹر ایک بار پھر مایوسی
ممبئی:ملک کے لیے بنائے جانے والے عام بجٹ میں کئی پرکشش اعلانات کرنا لیکن ان پر عمل درآمد نہ کرنا مرکز کی مودی حکومت کا طریقہ کار بن گیا ہے۔ مالی سال 2023-24 کے لیے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کا پیش کردہ عام بجٹ اسی عمل کا حصہ ہے۔ اس بجٹ میں دلکش نعروں،بیان بازیوں، نمبروں کے کھیل اور سنہرے خوابوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں، منریگا، پٹرول، ڈیزل، ایل پی جی گیس کی قیمتوں میں اضافہ، زرعی پیداوار کی کم از کم امدادی قیمت جیسے سلگتے ہوئے مسائل پر وزیر خزانہ نے منہ تک نہیں کھولا۔سچائی یہ ہے کہ اس بجٹ سے ملک کے عوام کے ہاتھوں مایوسی ہی آئی ہے۔مودی حکومت کے عام بجٹ پر یہ ردعمل مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے ظاہر کیا ہے۔
ناناپٹولے نے کہا کہ اس بجٹ میں زرعی شعبے کا کوئی ذکر نہیں ہے جو ملک میں سب سے زیادہ لوگوں کو روزگارفراہم کرتا ہے۔ فصلوں کے قرضہ جات کے شرح سود میں کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے اور نہ ہی کم از کم امدادی قیمت یعنی ایم ایس پی کے حوالے سے کوئی اعلان کیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے کھاد اور بیجوں پر جی ایس ٹی میں کوئی کمی نہیں کی ہے۔ وزیر خزانہ نے کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کا کوئی روڈ میپ پیش نہیں کیا۔ کیمیکل سے پاک قدرتی کھیتی، کسانوں کے لیے ڈرون، ڈیجیٹل اور ہائی ٹیک خدمات جیسے دلکش الفاظ کے علاوہ کسانوں کے لیے اس بجٹ میں کوئی ٹھوس اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
پٹولے نے کہا کہ جب کانگریس حکومت نے راجستھان، ہماچل پردیش، چھتیس گڑھ میں پرانی پنشن اسکیم کو لاگو کیا تو دباؤ میں آکر مرکزی حکومت نے انکم ٹیکس میں 50 ہزار کی چھوٹ دی۔ لیکن یہ اعلان بھی ایک پھندے کی طرح ہے۔عام انتخابات سے قبل متوسط طبقے کو ٹیکس میں ریلیف ملنے کی امید تھی لیکن حکومت نے انہیں بھی مایوس کیا۔ حکومت کی جانب سے پیش کی گئی نئی انکم ٹیکس اسکیم کے مطابق 10 لاکھ روپے کمانے والوں کو 78 ہزار روپے کا انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ پرانی سکیم میں یہ 65 ہزار روپے تھی۔ یہاں ریلیف دینے کے بجائے 13 ہزار روپے کے انکم ٹیکس کا بوجھ متوسط طبقے پر مزید ڈال دیا گیا۔ نئی ٹیکس اسکیم میں ہوم لون پر انکم ٹیکس کا فائدہ سیکشن 80C، 80D، 24B کے تحت کوئی ریلیف نہیں ملے گا۔
کانگریس کی ریاستی صدر نے کہا کہ کورونا کے دور میں خواتین کا جمع پونجی ختم ہو گیا ہے۔ آسمان چھوتی مہنگائی کے باعث گھر چلانا مشکل ہو گیا ہے، سب جانتے ہیں کہ ایسی صورتحال میں خواتین نے کتنا پیسہ بچایا ہوگا۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ ایل پی جی سلنڈر کی قیمت اور مہنگائی کو کم کرنے کے لیے خواتین کو اپنی بچتوں پر زیادہ شرح سود کا لالچ دینے کے بجائے کچھ اقدامات کا اعلان کرتی۔کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ منریگا کے لیے کی گئی پروویژن کی رقم کو 1 لاکھ 10 ہزار کروڑ روپے سے گھٹاکر 60 ہزار کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ یہ اسکیم بے روزگاری کو کم کرنے کا ایک موثر ذریعہ ہے لیکن اس اسکیم کے لیے کم بجٹ دینے سے دیہی بے روزگاری کا مسئلہ بڑھے گا۔ وزیر خزانہ نے یہ نہیں بتایا کہ حکومت نے 9 سال پہلے ہر سال دو کروڑ لوگوں کو روزگار دینے کی بات کی تھی۔ اس اعلان کا کیا ہوا؟ تعلیم اور صحت کے فنڈز کی فراہمی میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔
نانا پٹولے نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی تقریر میں ڈیٹا، گرین موبلٹی، گرین انرجی، آرٹیفیشیل انٹلی جینس جیسے الفاظ بار بار سنے گئے، لیکن انہوں نے پیٹرول، ڈیزل، ایل پی جی سلنڈر اور کھاد کی قیمتوں کو لے کر ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں 36 ڈالر فی بیرل کم ہوئی ہے لیکن حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی نہیں کی۔ عوام کو توقع تھی کہ حکومت اس بجٹ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کو کم کرنے کے لیے کوئی اہم اعلان کرے گی لیکن حکومت نے یہاں بھی عام آدمی کو مایوس کیا ہے۔کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ مہاراشٹر ٹیکس کے طور پر سب سے زیادہ رقم مرکز کو دیتا ہے لیکن ہماری ریاست کو اس بجٹ سے کچھ بھی ٹھوس نہیں ملا ہے۔ اقلیتوں، دلتوں، قبائلیوں، کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں، خواتین اور متوسط طبقے کو بھی اس بجٹ سے شدید مایوسی ہوئی ہے۔