اقلیتی طلباء کواگر مرکزی حکومت اسکالرشپ نہیں دے رہی ہے تو ریاستی حکومت کودینا چاہئے

14

فصل بیمہ کے بارے میں ممبئی میں بیمہ کمپنیوں کے دفاتر میں جاکر جواب طلب کریں گے

ممبئی:چھترپتی شیواجی مہاراشٹر کے لیے قابلِ احترام ہیں لیکن بی جے کے ذریعے ان کی مسلسل توہین نے بی جے پی کے اصل چہرے کو بے نقاب کردیا ہے۔ گورنربھگت سنگھ کوشیاری، بی جے پی کا ترجمان سندھاشوترویدی کے بعد اب ریاست کے وزیر منگل پربھات لوڈھا نے بھی شیواجی کی توہین کی ہے۔ حکمراں پارٹی کے ممبرانِ اسمبلی وممبرانِ پارلیمنٹ کے دلوں میں اگر شیواجی کی ذرا بھی عزت باقی بچی ہوتواس توہین پر وہ فوری طور پر استعفیٰ دیں۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدرناناپٹولے نے کیا ہے۔

گاندھی بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈر چھترپتی شیواجی کا نام صرف ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اوردیویندر فڈنویس نے ایک بڑے پروگرام میں بہت دھوم دھام سے بحیرہ عرب میں چھترپتی شیواجی مہاراج کی یادگار کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔ بی جے پی انتخابات میں چھترپتی مہاراج کے نام پر ووٹ مانگتی ہے، لیکن اقتدار میں آتے ہی اس کے لیڈران شیواجی کی توہین کرنے لگتے ہیں۔ پٹولے نے کہا کہ بی جے پی کے ترجمان سدھانشو ترویدی بڑی بے شرمی سے کہتے ہیں کہ چھترپتی شیواجی نے اورنگ زیب سے پانچ بار معافی مانگی تھی۔ گورنر کوشیاری نے چھترپتی کا موازنہ مرکزی وزیر نتن گڈکری سے کرتے ہوئے شیواجی مہاراج کو پرانے دور کا ہیرو قرار دیا۔ اب ریاستی کابینہ کے وزیر منگل پربھات لوڈھا نے چھترپتی مہاراج کاآگرہ سے فرارہونے کا موازنہ ریاست میں ایک پارٹی کے خلاف بغاوت کرنے والے باغیوں سے کیا ہے۔ پٹولے نے کہا کہ یہ انتہائی بے شرمی کی علامت ہے کہ لوڈھا پہلے تضحیک آمیز بیان دیتے ہیں اور بعد میں معافی مانگتے ہیں۔ بی جے پی لیڈروں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔بی جے پی کے ذریعے باربارچھترپتی شیواجی مہاراج کی توہین کیے جانے پر لوگوں میں کافی ناراضگی ہے۔ ریاست کے عوام اسے ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔

اگر مرکزی حکومت اقلیتی طلباء کو اسکالر شپ نہیں دے رہی ہے تو ریاستی حکومت کو دینا چاہئے

نانا پٹولے نے کہا کہ مرکزی حکومت نے پہلی سے آٹھویں جماعت میں پڑھنے والے اقلیتی طبقے کے طلباء کو دی جانے والی سالانہ اسکالرشپ کو اچانک روک دیا ہے۔ اس سے ریاست کے 13 لاکھ طلباء متاثر ہوئے ہیں۔ اس میں نہ صرف مسلم کمیونٹی کے طلبہ ہیں بلکہ سکھ، پارسی، عیسائی، جین، بدھ مت کے طلبہ بھی شامل ہیں۔ مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ طلبہ کے لیے رکاوٹ بن رہا ہے۔ اگر مرکزی حکومت یہ اسکالرشپ فراہم نہیں کرتی ہے، تو ریاستی حکومت کو اس کا انتظام کرنا چاہیے، تاکہ ان طلباء کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پٹولے نے کہا کہ کانگریس پارٹی اسکالرشپ کے مسئلہ پر سرمائی اجلاس میں آواز اٹھا کر طلباء کو انصاف دلانے کی کوشش کرے گی۔

ممبئی میں فصل بیمہ کمپنیوں کے دفاتر میں جاکر جواب طلب کریں گے

کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ ’پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا‘ کسانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انشورنس پریمیم جمع کرانے کے باوجود لاکھوں کسانوں کو معاوضہ نہیں ملا ہے۔ دوسری طرف فصلوں کی انشورنس کمپنیاں امیر ہو گئی ہیں۔ کسانوں کو فصل بیمہ کی رقم دلانے کے لیے کانگریس پارٹی ریاست کے ہر تعلقہ میں ہیلپ سینٹر قائم کرکے فصل بیمہ کی ادائیگی کے لیے دستاویزات جمع کررہی ہے۔ فصل بیمہ کمپنیوں کے تعلقہ، ضلع کی سطح پر دفاتر نہیں ہیں۔ کانگریس پارٹی ممبئی میں فصل بیمہ کمپنیوں کے دفاتر میں جائے گی اور ان سے جواب طلب کرے گی اور کسانوں کو انصاف دلانے کی کوشش کی جائے گی۔

مودی حکومت اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہی ہے

نانا پٹولے نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت نے لوگوں سے کورونا ویکسین لینے کی اپیل کی تھی۔ کورونا ویکسین کا کریڈٹ بھی وزیر اعظم نریندر مودی نے لیا تھا۔ اس مہم کی بہت زیادہ تشہیر بھی کی گئی۔ کورونا ویکسین کے سرٹیفکیٹ پر وزیراعظم کی تصویر چھپی تھی اور اس کا انہیں کافی کریڈٹ بھی دیا گیا تھا۔ لیکن کورونا ویکسین سے ہونے والی اموات کی ذمہ داری مرکزی حکومت لینے سے انکار کررہی ہے۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ وہ ان اموات کے لیے ذمہ دار نہیں ہے۔ یہ مودی حکومت کا دوہرا معیار ہے۔ اس پریس کانفرنس میں ایم ایل اے وجاہت مرزا، ریاستی کانگریس کے چیف ترجمان اتل لونڈھے اور راکیش شیٹی موجود تھے۔