اجیت پوار کو انتخابات کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ عوام کا فیصلہ سامنے آ سکے
ممبئی: مہاراشٹر میں لا اینڈ آرڈر کی صورت حال انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ قانون و انتظام کو سنبھالنے میں وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس ناکام ہو چکے ہیں جبکہ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) رشمی شکلا بدلاپور واقعے کے ملزمان کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بدلاپور واقعے کے ملزم آپٹے اور چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے کے مجسمہ ساز جئے دیپ آپٹے کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا وہ پاکستان بھاگ گئے ہیں؟ پونے میں بھی ایک سابق کونسلر کو گولیاں مار کر اور چاقو سے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ کو وزیر داخلہ کا استعفیٰ لیں اور پولیس ڈائریکٹر جنرل رشمی شکلا کو معطل کریں۔ یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔
تلک بھون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے بی جے پی اتحاد حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بدلاپور میں بچیوں کے ساتھ ۱۵ دنوں تک جنسی استحصال ہونے کا انکشاف ہو چکا ہے، اسکول کے ۱۵ دنوں کے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی غائب ہیں۔ بدلاپور پولیس اسٹیشن کی خاتون افسر پر کارروائی کرنے کے بجائے ان کا ممبئی تبادلہ کر کے انہیں انعام دیا گیا ہے۔ یہ اسکول بی جے پی و آر ایس ایس سے منسلک ہے جس کی وجہ سے اسکول کے ڈائریکٹر آپٹے کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پولیس ڈائریکٹر جنرل رشمی شکلا کا اس میں کردار نظر آ رہا ہے۔
نانا پٹولے نے کہا کہ ریاست کے کسان آسمانی اور زمینی مصائب کا سامنا کر رہے ہیں۔ مراٹھواڑہ اور ودربھ میں موسلا دھار بارش نے زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے۔ کسان مکمل طور پر مایوس ہو چکے ہیں۔ ابھی تک نقصانات کا سروے نہیں کیا گیا ہے۔ امداد پہنچنا تو دور کی بات ہے، پچھلے مانسون میں ہونے والے نقصانات کی بھرپائی ابھی تک کسانوں کو نہیں ملی ہے۔ لیکن بی جے پی اتحاد حکومت عوام کے پیسوں پر ایونٹ کرکے اپنی پیٹھ تھپتھپا رہی ہے۔ تہواروں کے دنوں میں کسانوں اور عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ کر سرکاری خزانہ لوٹا جا رہا ہے۔ جب کسان مصیبت میں ہیں تو مرکزی حکومت بھی کسانوں کے زخموں پر نمک چھڑک رہی ہے۔ سویا بین کو صرف ۳۰۰۰ روپے فی کوئنٹل قیمت مل رہی ہے اور ۱۳ لاکھ میٹرک ٹن سویا بین سے متعلق مصنوعات کی درآمد کی جا چکی ہے۔ مرکزی بی جے پی حکومت بڑے پیمانے پر درآمد کرکے اپنے خاص دوستوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے اور کسانوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ یہ درآمد بند کی جانی چاہیے۔ حکومت کو سویا بین کی قیمت ۷ ہزار روپے اور دھان کی قیمت ۳ ہزار روپے کا اعلان کرنا چاہیے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ اس حوالے سے انہوں نے وزیر اعظم کو خط لکھا ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے اس بیان کہ ’پوسٹر کو کیا جوتے مارتے ہو، اگر ہمت ہے تو سامنے آؤ‘ سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کانگریس ریاستی صدر نے کہا کہ اگر اجیت پوار میں ہمت ہے تو انہیں انتخابات کرانے چاہئیں تاکہ عوام سامنے آ کر انہیں اپنا فیصلہ دکھا سکیں۔ بی جے پی کے ایم ایل اے نیتیش رانے سے متعلق صحافیوں کے سوالات کے جواب میں نانا پٹولے نے کہا کہ نیتیش رانے پولیس کو گالیاں دیتے ہیں، دھمکیاں دیتے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ کسی کے بھی مذہب کو گالیاں دینے کا کسی کو کوئی حق نہیں ہے لیکن انتخابات کے نزدیک سیاسی روٹیاں سینکنے کی کوشش جان بوجھ کر کی جا رہی ہے۔
آر ایس ایس کے اس بیان پر کہ ذات پر مبنی مردم شماری کی سیاست نہیں کی جانی چاہیے، نانا پٹولے نے کہا کہ اس میں سیاست نہیں ہے۔ محروم، پسماندہ اور مظلوم سماج کو تعلیمی، سماجی اور اقتصادی فائدہ ملنا چاہیے اور ان سماجی طبقات کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں لانے کے لیے ذات پر مبنی مردم شماری ضروری ہے۔ ان سماجی طبقات کی فلاح و بہبود ہی اس کا مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت پسماندہ سماج کے طلبہ کو اسکالرشپ نہیں دے رہی، اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کر رہی ہے۔ سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے کئی بار یہ اعلان کیا ہے کہ ریزرویشن کو ختم کیا جانا چاہیے اور بی جے پی حکومت اسی کے مطابق کام کر رہی ہے۔
