کسانوں کے مظاہرے کی حمایت میں کانگریس کا آج ریاست گیر احتجاج

کسانوں کے مطالبات کے مطابق زرعی قوانین میں تبدیلی کی جائے: بالاصاحب تھورات

ممبئی: مرکزی حکومت کے ذریعے کسانوں پر مسلط کیے گئے زرعی قوانین کے خلاف ملک بھر کے کسانوں میں زبردست ناراضگی ہے اوروہ اس کے خلاف متحد ہوچکے ہیں۔ ان قوانین کی منسوخی کے مطالبے کے لیے کسان دہلی کے باہر دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ جب تک یہ قوانین منسوخ نہیں ہوتے، وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

کسانوں کے مظاہرے کی حمایت کرنے کے لیے کانگریس پارٹی کل(آج) ۳ دسمبر 2020 جمعرات کو ریاست گیر احتجاج کرنے والی ہے۔ یہ اطلاع مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ووزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے دی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بی جے پی حکومت کے ان زرعی قوانین کی کانگریس نے ابتداء سے ہی مخالفت کی ہے۔ان قوانین کو منسوخ کیے جانے کے مطالبے کے تحت مہاراشٹر پردیش کانگریس کی جانب سے گزشتہ دو ماہ سے اس کے خلاف احتجاج ومظاہرے کیے جارہے۔ کسان مہاورچیوئیل ریلی، یوم کسان حقوق کے علاوہ تمام ضلعی ہیڈ کوارٹر پر دھرنے ومظاہرے، راج بھون تک پیدل مارچ، ٹریکٹر ریلی، دو کروڑ دستخطی مہم جیسے کئی احتجاجی پروگرام کیے گئے جس میں ریاست کے 60لاکھ کسانوں نے حصہ لیا۔

کل ہونے والے احتجاج میں بھی عوام کی بڑی تعداد شریک ہوگی اور ان قوانین کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کرے گی۔

تھورات نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے زرعی قوانین کی مخالفت کرتے ہوئے کسان اب ملک کی راجدھانی دہلی میں اکٹھا ہوئے ہیں۔ سات دنوں سے وہ دہلی کی سرحد پر دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ ان کے دلوں میں ان قوانین کے تعلق سے جو خدشات ہیں ان پر مرکزی حکومت کو بات چیت کے ذریعے ضروری تبدیلیاں کرنی چاہیے۔ بی جے پی علانیہ طور پر ان قوانین کے بارے میں کہتی ہے کہ یہ کسانوں کے مفاد میں ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ کسانوں کے مفاد میں ہے تو پھر کسان اس سے مطمئن کیوں نہیں ہیں؟ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کے کرنی اور کتھنی یعنی کہ قول وعمل میں زبردست تضاد ہے اور کسان اس پر بھروسہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

کسان زرعی قوانین میں تبدیلی کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اس لیے مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ کسانوں کے مطالبات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان قوانین میں تبدیلی کرے۔ اس معاملے میں ہمارا واضح موقف یہ ہے کہ کسانوں کا مطالبہ حق بہ جانب ہے اور کانگریس کسانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading