مرکزی حکومت کے ذریعہ بنائے گئے بل کسان مخالف ، احتجاج کو مل رہی ہے بھاری حمایت کسانوں کی تحریک کوہمارا سپورٹ ہے۔ پرویز خان (پی کے)

بھیونڈی ( ایس اے ):- ملک کی بیشتر ریاست پنجاب ، ہریانہ ،ہماچل پردیش اور اتر پردیش اور قرب وجوار میں کسان گزشتہ تقریبا دو ہفتوں سے مرکزی حکومت کے ذریعہ کسانوں کے مبینہ مفاد کے نام پر توضیع کیے گئے تین نئے قوانین جن سے کسان مطمئن نہیں ہیں اور وہ اسے اپنے حق میں شدید نقصان دہ قرار دے رہے ہیں دہلی کے بارڈر پر اندولن کر رہے ہیں۔ اُن کا مطالبہ ہے کہ سرکار ان قوانین کو واپس لے اور کسانوں کے ضروری مطالبات کو تسلیم کرے۔اس مقصد کے تحت پنجاب وہریانہ کے کسان دہلی میں مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں،لیکن زیادہ تر لوگوں کو بارڈر پرروکا جارہا ہے، حالاں کہ ایک بڑی تعداد براری کے میدان میں خیمہ زن ہے، لیکن ہزاروں کی تعداد میں کسان سندھو بارڈر پر جمے ہوئے ہیں، دہلی و اطراف میں بڑھتی سردی کے باوجود کسانوں کے حوصلے پست نہیں ہو رہے ہیں اور ہر صورت میں دہلی کوچ کرنا چاہتے ہیں۔
بھیونڈی کے سینئر کانگریسی رہنما پرویز خان (پی کے )نے کسانوں کی اس تحریک کی حمایت کا اعلان کرتےہوئے کہا کہ مرکزی کی بی جے پی سرکار نت نئے قوانین وضع کر کے مزدورں، بنکروںاور کسانوں کا گزشتہ برسوں میں استحصال کرتی آئی ہے۔ نوٹ بندی ، جی ایس ٹی اور سرکاری کمپنیوں کو پرائیوٹ سیکٹر کے ہاتھوں سونپنے کے ساتھ ساتھ ریلوں اور ہوائی سفر بھی اب عوام کو سرمایہ داروں کے رحم وکرم پر ہی کرنا ہوگا۔ یہ باتیں صاف طور پر ظاہر کرتی ہیںکہ مرکزی حکومت گھرانہ شاہی کاشکار ہوگئی ہے اور ان کے چنگل سے آزاد ہونا بھی نہیں چاہتی۔
پرویز خان (پی کے ) نے مزید یہ کہا کہ مرکزی حکومت کسانوں کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے نئے وضع کردہ تینوں قوانین کو فوری طور پر رد کرے اور ان کے مطالبات مانتے ہوئے ان کے اندولن کو ختم کرنے میں ان کی مدد کرے ۔ سخت سردی میں کھلے آسمان کے تلے وہ کسان جو لوگوں کے لئے اناج پیدا کرتے ہیں دھرنا دئیے بیٹھے ہوئے ہیں۔ان کی جلد سے جلد سنوائی ہونی چاہئے اور انھیں انصاف ملنا چاہئے

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading