لاتور(محمد مسلم کبیر) کورونا وبا سے قبل ہفتے میں تین دن حیدرآباد سے پونے تک ٹرین کویڈ وبا کی وجہ سے بند کردیا گیا تھا۔اودگیر ریلوے جدوجہد کمیٹی اور عوامی نمائندوں کے تعاون سے ریاست کے وزیر مملکت سنجے بنسوڈے نے یکم فروری کو وسطی

ریلوے ممبئی میں اور 22 فروری کو جنوبی وسطی ریلوے سکندرآباد میں محکمہ ریلوے کے عہدیداروں اور اودگیر ریلوے جدوجہد کمیٹی کا مشترکہ اجلاس کیا۔حیدرآباد سے پونے ٹرین پھر سے چلانے کا مطالبہ کیا۔ریلوے انتظامیہ کی جانب سے حیدرآباد سے ہڈپسر ٹرین نمبر 07013/14 کو یکم اپریل سے ہفتے میں تین

دن چلانے پر اتفاق کیا اور ایک خط بھی جاری کردیا کہ یہ ٹرین حیدرآباد،وقار آباد،ظہیرآباد،بیدر،بھالکی، اُودگیر،لاتور روڈ،لاتور،عثمان آباد،بارشی،کرڈواڑی، ڈونڈ اور ہڑپسر ریلوے اسٹیشنوں کو منسلک کرے گی۔ پونے جنکشن میں چونکہ 6 پلیٹ فارم ہیں اور وہاں سے بڑی تعداد میں ٹرینیں آتی جاتی ہیں۔اگر حیدرآباد سے پونے ٹرین چلتی ہے تو،صبح 11 بجے سے صبح 3.30 بجے

تک اسی پلیٹ فارم پر ٹرین کو کھڑا رکھنا مشکل ہوگا۔ اس کے لئے،پونے جانے والی ریلوے سروس کے بجائے ہڑپسر ریلوے اسٹیشن تک اس ٹرین کو چلانے کی منظوری دے دی گئی تھی۔ تاہم،سینٹرل ریلوے نے ہڈپسر تک ٹرین چلانے میں بھی رضامندی سے انکار کیا ہے۔اس تعلّق سے سینٹرل ریلوے نے جنوبی وسطی ریلوے مطلع کیا ہے اور ٹرین غیر معینہ مدت کے لئے منسوخ کردی گئی ہے۔

اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے …

"پونے ریلوے انتظامیہ کو چاہئے کہ اس ریلوے کو اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے پونے اسٹیشنوں تک اور اس کے علاوہ شیواجی نگر،کھڑکی،چنچوڑ،تلے گاؤں اور یہاں تک کہ لوناولا تک وسعت دیں۔لوناولا تا پونے لوکل ٹرین کو پونے کے پونے ہڑپسر تک بڑھایا جانا چاہئے تاکہ ہڑپسر سے نواحی علاقوں اور اس سے آگے تک کا سفر آسان ہوجائے۔لیکن پونے ریلوے انتظامیہ نے ایک سخت موقف اختیار کرکے حیدرآباد پونے ٹرین چلانے سے انکار کر کے ٹرین ہی منسوخ کردی ہے۔اس کی وجہ سے مہاراشٹر کے سر حدی علاقے کے مسافروں اور

تاجروں کا نقصان ہو رہا ہے۔حالانکہ لاتور اور عثمان آباد اضلاع سے پونے انٹرسٹی ریلوے چلانے کا مطالبہ بھی کئی ماہ سے کیا جارہا ہے۔کم از کم اگر یہ ٹرین چلتی ہے تو اس کے ذریعہ کسی حد تک سہولت ہو

سکتی تھی۔اس ٹرین سے لاتور اور عثمان آباد اضلاع کے تاجروں اور لوگوں کو پونے اور حیدرآباد کا سفر کرنے میں فائدہ ہوگا۔یہ بات اوگیر ریلوے جدوجہد کمیٹی کے سکریٹری موتی لال ڈوئیجوڈے نے بتائی اور کہا کہ اس ٹرین کو ہر حال میں جاری کرنے کے لئے کمیٹی کوشاں ہے۔”