کیا لڑکے لڑکیاں اتنے مہنگے ہوگئے !!!

غلام ثاقب9226368493
الحمدللہ بیس سے زائد رشتے ہمارے ہاتھ پر ہوئے ہیں لیکن اب ذرا۔نہیں بہت زیادہ صورت حال بدل گئی ہے۔ اب لڑکے کو لڑکی اور۔لڑکی کو۔لڑکا۔ملنا۔مشکل ہوگیا ہے یعنی ارینج میریج مشکل نہیں بہت مشکل ہوگیا ہے۔ کوئی خبر مسلم۔لڑکیوں کے غیروں کے ساتھ فرار ہونے کی آجآئے تو ہم سب کے دل و دماغ پریشان ہوکر۔سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ آخر ایسا کیا۔ماجرا ہے کیا ان۔لڑکیوں کو۔مسلم نوجوان نہیں مل رہے?!
کئی وجوہات سامنے آئیں جنہیں جان کر دل پریشان ہوجاتاہے ۔ چلئے آپ کے سامنے بھی رکھ دیں در اصل ہم۔سب ان۔وجوہات کو جانتے ہیں۔لیکن جان۔بوجھ کر نفس پرستی۔میں مبتلا ہیں۔ ایسی پڑھی لکھی سوسائٹی کیاکام کی جو آپ کے جوان بچوں بچیوں کو۔گمراہی کے راستے پر۔ڈال دے۔
کہیں جہیز کی۔ ڈیمانڈ پر لڑکیاں شادی سے محروم ہیں کہیں لڑکے کو بلا کی۔ گوری اور خوبصورت بے عیب لڑکی کی تلاش ہے۔ اکثر رشتوں میں لڑکے کی۔ماں بہن پھوپھو نانی دادی خالہ کے ارمان کی۔ خوبصورت معاف کرنا۔بلا کی خوبصورت لڑکی درکار ہوتی ہے کہیں ان کے ارمانوں کی شادی سے لڑکی۔کا۔باپ حیران و ششدر رہ جاتا ہے کہ شادی لڑکے کو کرنی ہے یا لڑکے کی بہن۔
اس۔پر۔طرہ یہ کہ کچھ کچھ مائیں اور بہنیں الٹا بھی سوچ۔کر آتی ہیں کہنے کو بیٹے کو خوبصورت لڑکی۔ڈھونڈنی ہے لیکن دل میں یہ خیال کہ خوبصورت تو بالکل نہیں ہونا۔ کیونکہ لڑکی بیٹے کو اپنا۔گرویدہ بنا۔لیگی ۔ خیر اچھی اچھی لڑکیوں کو عیب نکال کر رجیکٹ کردیا۔جاتا ہے۔ لڑکا حیران پریشان کہ امی کو۔اتنی پیاری۔معصوم لڑکی پریشان کیوں نہیں آرہی۔ جواب ملتا ہے لڑکی ذرا ایڈوانس ہے اس کی امی کا نام خراب ہے۔لو۔بھائی لڑکی والوں کا کھا پی کر بے شرمی سے لڑکی اور لڑکی کی اماں باوا کو۔ہی بدنام کرجاتے ہیں۔ کچھ کچھ لڑکے والے بالخصوص رشتے داری کے شادی سے پہلے ہاتھ پیر جوڑ۔کر لڑکی مانگتے ہیں کہ اللہ کتنی پیاری بچی ہے ہمارے للو کو۔دیدو اس۔کو۔تو رانی بنا کے رکھونگی لیکن شادی کے دن سے ہی۔بےچاری پر ظلم ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ اس طرح اب لڑکی والوں کی بھی بدل گئی اب ایسے ماں باپ ہیں جنکو کہتے سنا گیا۔کہ اپنی بچی اپنے گھر پر رہے تو کم۔سے کم بے فکری تو۔رہے گی کہ لڑکی زندہ ہے۔ نکو ایسا رشتہ ۔۔۔۔
یہ
تو ہوئے لڑکے والوں کے مختصر ظلم وستم۔۔۔۔
اب لڑکی والوں کے ظلم و۔ستم بھی دیکھئے۔
ارے لڑکا۔کالاچ ہے اس کے بچے بھی کالیچ ہونگے۔ ارے کیا۔کرتے لڑکے سرکاری۔نوکری نہیں تو کیسے کرنا یہ رشتا بہت آئینگے اپنی بچی کو رشتے۔ پیڑ کو پھل رہے تو آتیچ رہتے پتھر۔ بہت آئینگے رشتے۔ اجی لڑکے والے لالچی دکھرے شادی اچھی کرو بولرے۔ اچھی لمبے کا لمباچ ہے۔ اجی ٹنگو ماسٹر دکھرا چھوکرا۔ ارے دیکھے کیا باجی تمنے لڑکے کے بال کم ہیں۔ اجی باجی لڑکے کی ماں بہت ڈینجر دکھری بات کا۔جواب نہیں دے ری تھی۔ اجی باپ نینا چھوکرے کو۔ اجی چار چار بہنا ہے لڑکی کو بہت سنیتاپ رہینگا ہماری بچی کو۔ اپنی بچی کترینہ کرینہ دکھتی سلمان کے جیسا رہنا چھوکرا ان کے تو سب کے منہ اترے ہوئے دکھ رے۔ کیا۔بولنا چھوکرا اچھا دکھرا لیکن پرمننٹ جاب نہیں تو کیسے نکلینگی زندگی۔ ہم لوگ کتنا بھی۔ پیسہ لگا سکتے شادی میں لیکن لڑکا ایک۔نمبر ہونا۔ ارے لڑکے والے غریب ہی دکھرے۔ اجی ہم سارا خرچ۔اٹھاتے بولے تو بھی سادی شادی کرو بول رے لڑکے والے خاندانی غریب دکھرا ۔
ارے لڑکے والے زیادہ دیندار دکھرے۔ لڑکے کو۔ابھی سے داڑھی رکھنے کی کیا ضرورت ہے ابھی کیا بڈھے ہوگئے۔ اپنی بچی لاڈ۔پیار کی ہے اتنے کٹر۔لوگ نکو۔ ارے لڑکاپڑھا لکھا ہوا تو کیا ہوا کھیڑے گاوں میں ہم نہیں دیتے۔ ہماری بچی بہت خوبصورت کسی کو بھی تھوڑی دینگے ہم اٹھاکے۔ لڑکا دبلا دکھرا کھانا کم کھاتا کیا ہے کی۔۔میچنگ نہیں دکھ ری۔ لڑکے کچھ تو بھی عیب ہے بات نہیں کر رہا تھا انہیں۔لڑکے کی۔ماں کو بہت گھمنڈ دکھرا اپنی بچی کو۔ستاتے کیا ہی کی۔ یہ سب بولنے ؤالے لڑکی کی خالہ پھوپھو نند وہ عورتیں رہتے جو چاہتے کی لڑکی کی شادی ان کے بچے سے ہونا۔
ہم نے وہ لڑکی والے بھی دیکھے جنہوں ڈاکٹر لڑکا صرف اس لئے ٹھکرائے کہ اسکو داڑھی تھی اور اس نے جمعہ کے دن کرتا پاجامہ پہنا تھا۔ ایسے ماں باپ بھی دیکھے جن کی بچی میں بدمزاجی کم حسن اور لاڈ پیار کی وجہ سے ضد اور غصہ ہے لیکن ان کو لڑکا ہینڈسم اسٹینڈرڈ چاہئے۔ وہ چاہتے ہیں کہ لڑکے کو بہن ماں تک نہیں رہنا۔ بعض لڑکیاں ایسی بھی دیکھیں کہ ان کی پسند کا۔رشتہ نہیں آیا کہ منہ پھلا کر لڑکے والوں کے سامنے منہ اتار کر بیٹھ جاتے۔ ایسی لڑکیاں بھی ہم۔جانتے ہیں جنکے ماں باپ ان۔کے مناسب پیسے والے پڑھے لکھے لڑکے تلاش رہے ہیں اور ان۔کی بچیوں کی۔عمر تیس چالیس حتی کہ پچاس سال ہوگئی۔ کچھ گھروں میں تو ان لڑکیوں میں مایوسی کی۔انتہا یہاں تک۔ہوگئی کہ لڑکیاں اپنے ماں باپ برتن پھینک کر مارتی ہیں کہ تم نے میری شادی نہیں کرائے میری ساری سہیلیاں بال۔بچوں والی ہوگئیں۔ بعض کم ظرف ایسے بھی ماں باپ دیکھنے میں آئے جنہیں اپنے بچی یا بچے کی۔شادی کرانے کی جلدی اس لئے نہیں ہے کہ ان کی بیٹی یا بیٹا کما رہے ہیں۔ کچھ ماں باپ عقلمند ہوتے ہیں وہ اپنے حالات سے۔سمجھوتا کرلیتے ہیں اور بیٹی بیٹا جیسے بھی ہو چاہے کم پڑھے لکھے کم صورت کالے گورے بزنس یا ٹیوشن۔پڑھانے والے اپنے بچوں کی۔شادی سنت کے مطابق جلدی۔اس لئے کراتے ہیں کہ کہیں ان کا بچہ یا بچی کوئی غلط قدم۔نہ اٹھالے۔ اور دنیا و۔آخرت۔میں ہماری۔رسوائی نہ ہوجائے۔ نہ ایسےماں باپ کو پیسے کی اڑچن۔آتی ہے نہ کوئی جوڑ۔لگانے کی ضرورت ماں بہن لڑکی دیکھ کر آگئے۔ لڑکی والے بھی شکر مانتے ہیں ملنسار لوگ ملے۔ دین کی سمجھ رکھتے ہیں اپنی بچی کو سمبھال کے رکھینگے۔ ایڈجسٹ کرلینگے جلدی دیدو ورنہ رشتہ نہ چلا۔جائے۔ پھر لڑکے کو لڑکی دکھائی جاتی ہے۔ لڑکا اپنی مناسبت سے لڑکی پسند کرلیتا ہے دوست بھائی ماں کو ہاں کر۔نے کے بعد دونوں طرف کے بڑے بوڑھے بیٹھ کر رسم منگنی۔شادی بیاہ تاریخ مہمان طے کرلیتے ہیں۔ اور شادی ولیمہ بال بچے۔ نانا نانی دادا دادی بن کر زندگی کے ہر رشتے کا لطف لیتے ہیں۔ خدا کا شکر کرتے ہیں کہ ہمارے بال بچے خوش ہیں۔
اب ہمیں خود دیکھ لینا۔چاہئے کہ ہم۔ان۔تینوں سے کونسی کیٹگری کے لوگ ہیں۔
ایک واقعہ ہمارے قریب کے بڑے ہی۔ ترقی پزیر شہریں پیش۔آیا۔ایک پڑھی لکھی مسلم لڑکی غیر مسلم پڑھے لکھے لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی۔ چند غیور مسلم نوجوانوں کو اطلاع ملی تو نے تعاقب کرکے دونوں کو۔پکڑ۔لیا۔بات پولیس تھانے تک۔گئی۔ لڑکی کے باپ کو بلایا گیا۔ لڑکی۔نے سب کے سامنے کہا کہ میں بالغ پڑھی لکھی لڑکی ہوں ابا میرے لئے آپ برسوں سے میرے لایق کا لڑکا ڈھونڈ رہے تھے آپ۔کو نہیں ملا تومیں نے خود ہی ڈھونڈ لیا۔
بڑے شہروں میں ہزاروں نوجوان پڑھتے ہیں اس دوران کئی لڑکے لڑکیاں چاہے ان۔چاھے طور پر ایک دوسرے کے کانٹیکٹ میں آتے ہیں۔ ان میں تعلقات کسی بھی۔حد تک۔جانا ممکن اور فطری ہے۔ اگر فلموں اور ٹک۔ٹاک کی تبلیغ آوارگی سے ہم۔سب بچ سکتے تو الگ۔بات تھی آج شریف۔سے۔شریف۔انسان کے موبائیل میں ان چاہے طور پر نیم برہنہ فوٹوز۔ از خود ڈاؤنلوڈ ہوتے ہیں کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کی۔نوجوان لڑکے یا۔لڑکی اب بھی۔معصوم بچی بچہ رہ جاتے ہیں جنہیں چاکلیٹ۔دیدیا جائے تو وہ چپ۔ہوجائے۔ ہرگز نہیں اٹھئے اپنے بچی بچوں کی شادی کی فکر کیجئے۔ نوجوانوں پڑھتے لکھتے کمانے والے بنو پارٹ ٹائم جاب کرو۔ پیسوں سے اسٹرآنگ بنو۔ شادی کا بوجھ ماں باپ پر۔مت۔ڈالو۔ خود اٹھائو۔ بیکار مت پھرو۔ تاکہ شادی آسان بن سکے۔ لڑکیاں خود سمجھدار بنیں۔ فلمیں حقیقت نہیں ہوتیں۔ اینٹرٹین منٹ کے لئے ہوتی ہیں اگر سلمان جیسے ہیرو۔کی تلاش۔میں ہیں یا کرینہ کترینہ کے تلاش۔کر رہے ہیں تو ممکن ہے آپ سلمان کی طرح بغیر شادی رہ جائیں اور ایکدن آپ کابھی اینٹرٹینمنٹ بن۔جائے۔
میری امی ابو کامیں شکر گزار ہوں کہ میری شادی جلدی کرائی میرے بچے بڑے ہوکر قد کے برابر آرہے ہیں اور میری عمر ابھی انچالیس برس ہے۔ میں نے شادی کے کام بھی کیا پڑھائی بھی ۔ شادی کے وقت آیورویدک میڈیکل چلاتا تھا اب جونئر کالج میں انگلش کا لیکچرر ہوں۔ خدا امت کے ساتھ ضرور خیر کرے گا لیکن شرط یہ ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کے ساتھ خیر۔کے فیصلے لیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading