HMPV:   وبا کا خطرہ، ماہرین نے گھبرانے سے روکا صحت عامہ کی ہدایا ت پر عمل کریں، HMPV قابو میں ہے

HMPV: وبا کا خطرہ، ماہرین نے گھبرانے سے روکا
صحت عامہ کی ہدایات پر عمل کریں، HMPV قابو میں ہے
) آفتاب شیخ)
چین میں ہومن میٹا پنیو مو وائرس (HMPV) کے پھیلاؤ نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ہندوستان کے شہر بنگلور میں بھی اس وائرس کے دو معاملات کی تصدیق ہوئی ہے، جس سے شہریوں میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ تاہم ماہرین صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبرانے کے بجائے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور صحت عامہ کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کریں۔
مہاراشٹر کے ڈائریکٹر آف ہیلتھ سروسز ڈاکٹر نتن امبادیکر نے بتایا کہ ریاست میں HMPV کے معاملات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے ضلع کے ہیلتھ افسران کو ہدایت دی ہے کہ سانس کی بیماریوں، جیسے کھانسی، بخار اور دیگر انفیکشنز (SARI اور ILI) کے معاملات کا سروے کر کے رپورٹ پیش کریں۔ ڈاکٹر امبادیکر نے کہا کہ موجودہ صورتحال کنٹرول میں ہے اور عوام کو غیر ضروری طور پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
صحت عامہ کے وزیر پرکاش آبٹکر نے کہا کہ ریاستی حکومت HMPV کے خلاف تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور صحت کے ماہرین کی تجاویز پر عمل کریں۔
HMPV کے علامات:
یہ وائرس بخار، کھانسی، ناک بہنا، اور سانس لینے میں دشواری کا سبب بنتا ہے۔ شدید حالات میں آکسیجن کی کمی بھی ہو سکتی ہے۔ یہ بیماری زیادہ تر متاثرہ افراد یا آلودہ اشیاء کے ذریعے پھیلتی ہے۔
احتیاطی تدابیر:
1. بار بار ہاتھ دھوئیں اور صاف ستھری عادت اپنائیں۔
2. بیمار افراد سے فاصلہ رکھیں۔
3. کھانستے یا چھینکتے وقت منہ اور ناک کو ڈھانپیں۔
4. متوازن غذا کا استعمال کریں جس میں وٹامن C، زنک، اور پروٹین شامل ہو۔
5. زیادہ سے زیادہ پانی پئیں اور جسم کو ہائیڈریٹ رکھیں۔
ماہرین کی رائے:
ممبئی کی ڈاکٹر زہابیہ ایم بگوالا نے کہا کہ اچھی غذا قوت مدافعت کو مضبوط بناتی ہے اور بیماریوں سے بچاتی ہے۔ انہوں نے پھل، سبزیاں، دہی اور دالوں کو خوراک کا حصہ بنانے کی تجویز دی۔

HMPV ایک عام انفیکشن ہے اور اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ریاستی اور مرکزی حکومتیں حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، افواہوں سے دور رہیں، اور صحت عامہ کے ہدایات پر عمل کریں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading