سماج وادی پارٹی کے ایم پی کے معاون فرحت خان پاکستان کیلئے جاسوسی کے الزامات سے باعزت بری

0 2
ممبئی :22 ستمبر(ای میل) سماج وادی پارٹی کے ممبر آف پارلیمنٹ چودھری منور سلیم کے ذاتی معاون فرحت خان کو آج دہلی کی خصوصی عدالت نے پاکستان کے لئے جاسوسی کرنے جیسے سنگین الزامات سے باعزت بری کر دیا ۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیةعلماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سر براہ گلزار اعظمی نے دی ۔انہوں نے بتایا کہ ملزم کا مقدمہ سے ڈسچارج اس بات کا غماز ہے کہ تحقیقاتی دستوں نے ملزم کو جھوٹے مقدمہ میں گرفتار کیا تھا،جس کی وجہ سے اس کا گھر برباد ہوگیا اور اسے سماج میں ذلت کی نگاہ سے دیکھا جارہا تھا۔گلزار اعظمی نے مزید بتایا کہ جمعیةعلماءکے وکیل ایم ایس خان نے مقامی عدالت کے جج کو ملزم کے لئے ڈسچارج عرض داشت پر بحث کرتے ہوئے بتایا کہ جن الزامات کے تحت ملزم فرحت کو گرفتار کیا گیا تھا وہ الزام چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد ثابت نہیں ہو سکے۔ایم ایس خان نے عدالت کو مزید بتایا کہ دہلی کرائم برانچ نے ملزم پر الزامات عائد کئے تھے کہ وہ خفیہ دستاویزات پاکستان کے جاسوسی ادارہ ISIکو مہیا کراتا تھا،لیکن چارج شیٹ سے منسلک دستاویزات خفیہ نہیں بلکہ تمام دستاویزات وہ ہیں جو انٹر نیٹ پر آسانی سے دستیاب ہیں ۔ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان ڈپلومیٹ کے بیان کی بنیاد پر ملزم فرحت کو آفیشیل سکریٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا ۔لیکن تحقیقاتی دستہ یہ ثابت کرنے میں نا کام رہا کہ ملزم نے پاکستانی سفیر کو دستاویزات مہیا کرائے وہ خفیہ نوعیت کے تھے اگر اس سے ملک کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوتا تھا۔اسی درمیان سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو ایک سنگین الزام کے تحت گرفتار کیا گیا ہے،لہٰذا اسے مقدمہ سے ڈسچارج نہیں کرنا چاہئے۔ فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد مقامی عدالت کے جج ساتھیا کمار اروڑا نے ملزم فرحت کو مقدمہ سے ڈسچارج کیئے جانے کے احکامات جاری کئے۔ملزم کو مقدمہ سے ڈسچارج کئے جانے پر گلزار اعظمی نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کرائم برانچ نے ملزم کو دو سال قبل گرفتار کیا تھا،لیکن آج دو سال کا عرصہ گذر جانے کے باوجود وہ عدالت میں یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہیکہ ملزم کسی بھی طرح کی جاسوسی میں ملوث تھا۔گلزار اعظمی نے کہا کہ پچھلے دو سالوں کے دوران ملزم کی جیل میں مقید ہونے کی وجہ سے اس کے گھریلو حالت نہایت خراب ہوگئے ہیںاور نوبت یہاں تک آگئی کہ اس کے بچوں کی اسکول کی فیس بھرنے کے لئے اہل خانہ کو جد و جہد کرنا پڑی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب جبکہ ملزم با عزت بری ہوگیا ہے اس کے دو سال اور سماج میں ہوئی بے عزتی کون واپس کرے گا ؟؟واضح رہے کہ 16اکتوبر 2016کو ملزم فرحت سمیت تین دیگر ملزمین کو دہلی کرائم برانچ نے پاکستان کے لئے جاسوسی کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 120B,409,34,اور جاسوسی کے قانون کی دفعات 3اور 9کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا ۔تمام ملزمین سماج وادی پارٹی کے ممبر آف پالیمنٹ منور سلیم کی آفیس میں بر سر روزگار تھے ۔