Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

Db department ka qable satayes aqdam

بھیونڈی کارپوریشن کا ٹی بی محکمہ کا قابل ستائس اقدام

گزشتہ 2 برسوں میں کئے گئے کاموں کی ریاستی محکمہ صحت نے تعریف کی

بھیونڈی ( ایس اے ):- بھیونڈی شہر میں ٹی بی کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کی خبریں گزشتہ چند دنوں سے اخباروں میں چھپی ہیں اور ادارہ صحت کے ساتھ بطور خاص ٹی بی ڈپارٹمنٹ کو بڑھتی تعداد کا نشانہ بنایا گیا ہے ساتھ ہی ڈپارٹمنٹ پر یہ الزامات بھی عائد کئے گئے ہیں کہ محکمہ صحت درست طرح سے کام نہیں کررہا ہے اس ضمن میں گزشتہ روز ادارہ صحت کے انچارج چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر کے آر کھرات اور ٹی بی ڈپارٹمنٹ کی انچارج ڈاکٹر بشری سید نے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دو ہزار سترہ اور اٹھارہ میں ریاستی ادارہ صحت نے بھیونڈی شہر کو ٹارگٹ اس لئے کم دیا تھا کیونکہ مریضوں کی تعداد کم تھی اور اگر شہر میں مزید مریض ٹی بی کے تھے تو وہ ریکارڈ میں نہیں آسکے تھے جس کی وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت ادارہ صحت میں کام کرنے والے کم تھے اور پرائیویٹ ڈاکٹر بھی ٹی بی کے مریضوں کی رپورٹ سرکاری ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کو نہیں دے رہے تھے ۔ جبکہ دو ہزار انیس میں ٹی بی کے شعبہ میں سرکاری ملازمین کے علاوہ انجیو بھی کام کررہی ہے جو کہ بطور خاص پرائیویٹ ڈاکٹروں سے رابطہ کررہی ہے اور پرائیویٹ سے رپورٹ طلب کر کے سرکاری ٹی بی ڈپارٹمنٹ کو فراہم کررہی ہے اس لئے 2019 میں مریضوں کی تعداد بڑھی نیز جب پرائیویٹ ڈاکٹروں نے رپورٹ کرنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ کافی مریض ہیں جو سامنے نہیں انا چاہتے تو میونسپل ملازمین نے بھی متعدد طریقہ کار سے ان کی تلاش شروع کی جس سے مریضوں کی تعداد بڑھی اسی بڑھی ہوئی تعداد کی بنیاد پر ہی دوہزار 2020 میں ٹارگیٹ بڑھا کر دیا گیا اور دیا گیا ٹارگٹ امسال 2020 میں اس لئے پورا نہیں ہوسکا کیونکہ کرونا وائرس کا انفیکشن ابتدائے سال سے ہی سامنے آگیا جس کی وجہ سے جہاں سرکاری ملازمین کرونا کی روک تھام میں مصروف ہوگئے وہیں معاون پرائیویٹ تنظیم بھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں تک نہیں پہنچ سکی اور اہم بات یہ سامنے آئی کہ کرونا وائرس اور ٹی بی کی علامات میں کئی باتیں یکساں ہیں تو ٹی بی کے مریض بھی چیک اپ میں کرونا نا نکل آئے اس لئے خود کو چھپاتے رہے کیونکہ کرونا پازیٹیو ہونے کی شکل میں کورونٹائن اور گھر کے دوسرے افراد کو گھروں سے لے جاکر کورونٹائن کرنے کے ڈر اور خوف سے وہ ٹی بی کا معاملہ بھی سامنے نہیں آنے دئے اور خود پرائیویٹ ڈاکٹر جو دوسرے علاج ومعالجہ میں لگے تھے وہی کرونا وائرس کے دوران ندارد تھے تو رپورٹنگ بھی کہاں سے ہوتی ٹی بی ڈپارٹمنٹ کی انچارج ڈاکٹر بشری سید نے بتایا کہ اب چونکہ کرونا وائرس کا زور کم ہوا ہے اور بہت ساری تبدیلیاں بھی سامنے آچکی ہیں تو ٹی بی کے ممکنہ مریض جو سامنے نہیں آرہے تھے ان تک پہنچنے کے لئے متعدد مختص علاقوں کا سروے بھی کیا گیا جہاں ٹی بی کے مریضوں کے خدشات زیادہ تھے۔سروے کے علاوہ عوامی بیداری کے لئے نکڑ ناٹک بھی کرائے گئے۔اس کے علاوہ گزشتہ ایک ماہ میں سات میڈیکل کیمپ بھی کئے گئے جس میں بطور خاص ٹی بی کے چیک اپ پر فوکس کیا گیا

اس کے علاوہ شہر کے متعدد کالجز کے پرنسپل۔مذہبی رہنماؤں سے عوامی بیداری کی اپیلیں بھی کرائی گئیں۔پمفلٹ بھی بانٹے گئے جس میں بتایا گیا کہ ٹی بی کی علامات نظر آئیں تو بھیونڈی مہانگر پالیکا کے 15 ہیلتھ سینٹروں میں سے کہیں بھی جاکر اپنا چیک اپ کراسکتے ہیں اور علاج بھی کیا جائےگا یہ تمام چیک اپ اور علاج سرکار کی طرف سے بالکل مفت میں کیا جائےگا ۔ بطور خاص اساتذہ پرنسپل سے اس لئے اپیلیں کرائی گئیں کیونکہ پندرہ سے پچیس برس کی عمر کے لوگوں میں ٹی بی زیادہ پایا جارہا ہے اور بھیونڈی میں کئی طالبات بھی متاثرہ ہیں ۔ ڈاکٹر کے آر کھرات چیف میڈیکل آفیسر اور ڈاکٹر بشری سید انچارج ٹی بی ڈپارٹمنٹ نے شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ٹی بی اب کوئی بہت بڑی بیماری نہیں ہے کہ جس کا علاج مشکل یا ناممکن ہو بلکہ بلکل مفت اور نہایت آسان علاج ہے آپ ہم سے رابطہ کریں علاج سے ٹی بی مکمل ختم ہوجاتا ہے کورس پورا ضرور کریں اور جن میں علامات ہوں وہ چھپائیں نہیں اور شرمائیں نہیں بیماری کبھی چھپائی نہیں جاتی مفت میں ٹی بی کے ہر طرح کے چیک اپ اور علاج کے لئے ڈپارٹمنٹ آپ کے ساتھ ہے ۔