دنیا میں کینسر سے 96 لاکھ افراد کی جان جا سکتی ہے : یو این رپورٹ

0 15

نئی دہلی ،14ستمبر(پی ایس آئی)کینسر کی بیماری تیزی سے پوری دنیا میں پاو¿ں پسار رہی ہے. اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سال دنیا بھر میں 1.8 کروڑ معاملے کینسر کے سامنے آ سکتے ہیں، جس میں 96 لاکھ لوگوں کی جان جا سکتی ہے. رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر پانچ میں سے ایک مرد کو کینسر ہو رہا ہے. ادھر، بھارت میں کینسر کی شرح تو مستحکم ہے لیکن اس کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے. انڈین میڈیکل اسٹٹیوشن کے اعلی محققین کی طرف سے کئے ریسرچ میں انکشاف ہوا ہے کہ 1990-2016 کے درمیان کینسر ریٹ مستحکم رہا ہے. 2016 میں خواتین-مردوں کے درمیان سب سے زیادہ کیس پیٹ کے کینسر کے آئے تھے، وہیں اب جگر کے کینسر زیادہ تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے. اس کے علاوہ بریسٹ کینسر (8.2فیصد)،لنگ کینسر (7.5فیصد) کے معاملے ہیں. بھارت میں 1990 میں کینسر کے 5.5 لاکھ معاملے سامنے آئے تھے، وہیں 2016 میں یہ تعداد 10.6 لاکھ ہو گئی. کینسر دوسری سب سے بڑی جان لیوا بیماری ہے. کینسر پر ریسرچ کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی آئی اے آر سی نے بتایا ہے کہ اس سال دنیا بھر میں کینسر کے 1.8 کروڑ نئے کیس سامنے آ سکتے ہیں اور 96 لاکھ لوگوں کی اس کی وجہ سے جان جا سکتی ہے. اس کے مطابق دنیا میں ہر پانچ میں سے ایک مرد کو کینسر ہو رہا ہے جبکہ خواتین کے معاملے میں یہ تناسب ہر چھ میں سے ایک کا ہے. رپورٹ میں بھارت کے تناظر میں کیا کچھ کہا گیا ہے، آئیے جانتے ہیں- انڈین میڈیکل اسٹٹیوشن تحقیق میں یہ صاف کیا گیا ہے کہ ملک کے پاپیولےشن کے ایج اسٹرکچر کی وجہ کینسر کے حقیقی صورت بڑھے ہیں. لوگ اب زیادہ وقت تک جی رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کینسر کی بیماری نسبتاً بزرگوں کو اپنا نشانہ زیادہ بنا رہی ہے. کینسر کی سب سے کامن قسم سٹمک کینسر ہے. اس کے علاوہ جگر کا کینسر سب سے تیزی سے پھیل رہا ہے. دی لےسےٹ میں شائع سٹڈی کے مطابق کینسر کی وجہ سے موت کی شرح اب بھی زیادہ ہے. سٹڈی کے مطابق ابتدائی مرحلے میں کینسر کی شناخت نہیں ہو پانا اس کا بڑا سبب ہے. ڈاکٹروں کے مطابق اس وقت کینسر سے سرواویل ریٹ 20-30 فیصد کے قریب ہے. ڈاکٹروں نے بتایا زیادہ تر مریض کینسر کے اڈوانسڈ اسٹیج یا پھر تیسرے یا چوتھے اسٹیج میں پہنچنے پر ان کے پاس آتے ہیں. ایمس کینسر سینٹر کے چیف ڈاکٹر جی کے رتھ نے بتایا، ‘اگر کینسر کا پتہ ابتدائی سطح پر چل جائے تو 80 فیصد مریض مکمل طور ٹھیک ہو سکتے ہیں. سٹڈی کے مطابق پیٹ کا کینسر (9فیصد)، بریسٹ کینسر (8.2فیصد)، لنگ کینسر (7.5٪)، قولن (ملاشی) کینسر (5.8فیصد)، بلڈ کینسر (5.2فیصد) اور سروائیکل کینسر (5.2فیصد) ہندوستانیوں میں عام ہے.