مراٹھواڑہ کے آبپاشی مسائل پر حکومت غیر سنجیدہ: اشوک چوہان

ناندیڑ۔28ستمبر(نامہ نگار) : مراٹھواڑہ کے آبپاشی مسائل پر ریاست کی بی جے پی۔شیو سینا حکومت غیر سنجیدہ نظر آرہی ہے۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے پچھلے دنوں سابق چیف منسٹر اشوک چوہان نے مراٹھواڑہ کے آبی مسئلہ کو لے کر ارکانِ اسمبلی کے ساتھ چیف منسٹر مہاراشٹر دیویندر پھڑنویس سے دو دن قبل ملاقات کی۔ چیف منسٹر کے رہائش گاہ پر آبپاشی کے مسائل پر ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں ریاست کے آبپاشی وزیر گریش مہاجن‘ رکنِ اسمبلی ڈی پی ساونت‘ وسنت چوہان‘ امر راجورکر‘ آبپاشی محکمہ کے چیف سکریٹری اقبال سنگھ چہل‘ گوداوری مراٹھواڑہ ایریگیشن کارپوریشن کے ڈائریکٹر کوہیر کر و دیگر موجود تھے۔ رکنِ پارلیمنٹ و کانگریس کے ریاستی صدر اشوک چوہان نے اس اجلاس میں مراٹھواڑہ کے آبی مسائل کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے ریاستی سطح پر ہورہی خامیوں کی نشاندہی کی۔ آج ایک پریس کانفرنس میں اشوک چوہان نے بتایا کہ مراٹھواڑہ کے لئے 102 ٹی ایم سی پانی استعمال کرنے کی حد مقرر کی گئی ہے مگر علاقہ کو ہمیشہ ہی صرف 76 ٹی ایم سی سے کم ہی پانی حاصل ہورہا ہے۔ مراٹھواڑہ کے حق کا پانی اُسے حاصل نہیں ہورہا ہے جس کی وجہ سے کئی پروجیکٹوں کو پانی نہیں ملتا ہے اور اطراف کے علاقوں کے کسانوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے۔ کرشنا کھورے کے لئے 594 ٹی ایم سی کی گنجائش منظور ہے مگر وہاں 788 ٹی ایم سی پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ مراٹھواڑہ میں ہر سال یہاں پر موجود پروجیکٹ مکمل لبریز نہیں ہورہے ہیں۔ گوداوری ندی سے60 ٹی ایم سی پانی چھوڑ دیا جارہا ہے۔ یو پی پی پروجیکٹ کے تحت عیسیٰ پور پر ڈیم تعمیر کیا گیا تھا اب وہاں ساپڑی ڈیم تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور اس ڈیم کے سبب ناندیڑ‘ ہنگولی‘ ایوت محل ان اضلاع کو مستقبل میں پانی کی قلت کا مسئلہ پیش آئے گا۔ عیسیٰ پور ڈیم سے آبپاشی کے لئے بڑے پیمانے پر پانی استعمال میں لایا جاتا ہے۔ مستقبل میں ساپڑی ڈیم کے باعث ناندیڑ‘ ہنگولی‘ ایوت محل کے کسانوں کو مسائل درپیش ہونگے۔ اشوک چوہان نے کہا کہ ناندیڑ۔تیلنگانہ کی سرحد پر موجود بھوکر تعلقہ کے بابھڑی ڈیم کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے ہر سال یکم جولائی تا 28اکتوبر کے دوران ڈیم کے دروازے کھلے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے سبب مراٹھواڑہ کا پانی تیلنگانہ میںچلا جاتا ہے۔ اکتوبر کے بعد بارش کا امکان نہیں رہتا ہے۔ بابھلی ڈیم بھی خالی ہوجاتا ہے۔ بابلی ڈیم کے دروازوں کو بند کرنے کے معاملہ میں مہاراشٹر اورتیلنگانہ مل کر سپریم کورٹ سے رجوع ہوکر اجازت لیتے ہیں تو اس کا فائدہ دونوں ہی ریاستوں کو ہوگا تیلنگانہ کا پانی سمندر میں چھوڑدیا جاتا ہے۔ ےہ پانی بابلی میں باقی رہ سکتا ہے اور آبپاشی کے کاموں میں استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ اشوک چوہان نے کہا کہ ناندیڑ کے وشنو پوری ڈیم کے ذریعہ سے شہر میں پینے کا پانی کارپوریشن کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے۔ مستقبل میںناندیڑ شہر سے قریب ایک تالاب تیار کرکے اُس میں اضافی پانی جمع کیا جاتا ہے تو اس سے ناندیڑ کے لوگوں کوموسمِ گرما میں آبی قلت کا مسئلہ پیش نہیں آئے گا۔ اس پریس کانفرنس میں رکن اسمبلی ڈی پی ساونت‘ میئر بلدیہ شیلا بھورے‘ کشور بھورے‘ کانگریس کے خازن وجئے یونکر‘ ترجمان سنتوش پانڈاگڑے‘ منتجب الدین موجود تھے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading