واقعہ کربلا گفتار ورفتار اور قول و فعل کا بے مثال سنگم ہے: ڈاکٹر سعید بن مخاشن 

0 27
لکنھؤ ¿24 ستمبر (پریس ریلیز)آل انڈیا علماءومشائخ بورڈ کے صوبائی دفتر لکھن¶ میں سید حماد اشرف کچھوچھوی (جنرل سیکریٹری AIUMB اترپردیش) کی صدات میں ذکرشہادت حضرت سیدنا امام حسین کی ایک محفل کا اہتمام کیا گیا محفل کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا،قاری معین الدین رضوی نے نعت و منقبت کے نذرانے پیش کئےمحفل کو خطاب کرتے ہوئے اسلامی اسکالرپروفیسرڈاکٹر سعید بن مخاشن (مولانا آزاد یونیورسٹی لکھنو) نے کہاکہ مشہور صحابی حضرت ابوہریرہ بازار چلتے ہوئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بارگاہ میں یہ عرض کیا کرتےتھے کہ اے اللہ مجھے ساٹھ ہجری کا سال اور (آوارہ) لڑکوں کی امارت و حکومت نہ دے اس سے پہلے مجھے موت دیدے

۔انہوں نے حضرت علامہ حجرمکی علیہ الرحمہ کے حوالے سے کہا کہ آپ فرماتے ہیں 60 ہجری میں آوارہ لڑکوں کی حکومت سے پناہ مانگنے کا حکم رسول اللہ ﷺ نے دیا تھا اور حضرت ابوہریرہ کو معلوم تھا اس لئے وہ دعا کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو وصال 59ہجری موت دیدی اور 60 ہجری میں حضرت امیر معاویہ کی وصال ہوا اور یزید کی حکومت ہوئی۔ یزید کی ناپسندیدہ حالات کو حضوراکرم ﷺ کے بتانے سے حضرت ابوہریرہ جانتے تھے کہ 60 میں یزید کی حکومت ہوگی۔ یزید کی بدکاریاں اور اس کا جھوٹ و ظلم ظاہر ہو چکاتھا، جس کی وجہ سے شہزاد? رسول کےلئے اس کی بیعت و اطاعت سے انکار فرض تھا، اس انکارکے نتیجے میں عدل و انصاف کے بادشاہ نے گھر، کنبہ، احباب سب کو قربان کیا اور خود بھی قربان ہوگئے لیکن امت کا سودا نہیں کیا بلکہ یزید کی خباثت و پلیدی سے امت مسلمہ کو بچالیا اور اور عدل و انصاف کا پرچم بلند فرمایا اور ثابت کردیا کہ یزید ظالم وناپاک اور امیرالم¶منین نہیں ہے۔

مولانا عرفان اشرفی نے کہا کربلاوالوں نے اسلام کی سربلندی کی خاطر جان دے کر ابدالآباد تک ظلم و استنداد کے خلاف کمزوروں اور بے نوا¶وں کو اٹھ کھڑے ہونے کی طاقت بخشی ہے۔سید حماد اشرف جیلانی دنیامیں لاکھوں انسانوں نے 57 سال عمر پائی لیکن تاریخ میں ان کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا۔ حضرت سیدنا امام حسین نے 57 سال کی عمر میں دنیا میں وہ تہلکہ مچادیا کہ جس سے عدل و انصاف کو ایک لازوال فتح اور ظلم وبربریت کو عبرتناک شکست ہوئی۔ اسی عظیم الشان اور بے مثال قربانی کی بدولت شہزادہ رسول پوری انسانیت کے لئے چراغ ہدایت اور سفینہ نجات ٹھہرے۔ اس موقع پر پروگرام کے آخر میں آل رسول احمد (آفس نگراں AIUMB لکھن¶) نے تمام شرکاءکا شکریہ اداکیا۔ مولانا توفیق رضوی، اسماعیل نظامی، رمصان علی، اقبال انصاری، قاری معین الدین رضوی، قاری عمار برکاتی، عقیل عطاری، اعجازاحمد، انوارالحسن رضوی، اسعد اشرفی، حافظ اقبال، محمد ریحان وغیرہ کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔ پروگرام کا اختتام صلوة وسلام اور ملک میں امن وامان اور ترقی و خوشحالی کی دعاپرہوا۔اس موقع پرفیض الحسن رضوی، عبدالقادر وارثی،بسم اللہ خان چشتی، محمد عارف،حید ر علی، عین الحسن، بابا رضوان، محمد حنیف، ہارون رشید، عثمان علی، عبدالرحمن، محمد طلحہ وغیرکے علاوہ کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی۔محفل کا اختتام صلوة وسلام اور ملک میں امن و امان، ترقی و خوشحالی کی دعا پر ہوا۔