دیوبند، 30؍ دسمبر (رضو ان سلمانی) گزشتہ شب شہر کی والمیکی بستی میں دو الگ الگ فرقوں کے نوجوانوں کے درمیان معمولی بات کو لیکر ہوئے تنازعہ میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دونوںفریق کے 50؍ نامعلوم افراد کے خلاف مختلف دفعات میں مقدمہ درج کیاہے،اتنا ہی نہیں بلکہ پولیس نے رات میں دو فریق کے درمیان ہوئے تصادم کے معاملہ میں کچھ نوجوانوں کو حراست میں لیکر ان سے پوچھ گچھ کرنے کے بعد انہیںچھوڑ دیا۔ تفصیل کے مطابق اتوار کی شب شہر کی والمیکی بستی میں دو فرقہ کے نوجوانوں میں ہیئر سیلون پر کسی بات کو لیکر تنازعہ ہوگیا تھا،
جس کے کچھ دیر دونوں فریق کے درجنوں نوجوان دیر رات ایچ اے وی انٹر کالج پر آمنے سامنے آگئے،جہاں جم کر پتھر بازی ور فائرنگ ہوئی، اتناہی نہیں بلکہ وہاں سبزی کی دکانوں میں توڑپھوڑ کی گئی ،جس کے بعد دونوں فرقہ کے لوگ آمنے سامنے آگئے اور ان میں جم کر پتھراؤ اور فائرنگ ہوئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس محکمہ میںکھلبلی مچ گئی، آناً فاناً موقع پر بھاری پولیس فورس پہنچی اور ایس ایس پی دنیش کمار پی بھی موقع پر پہنچ گئے ،دکانوں میں توڑ پھوڑ کی اطلاع پر شہر میں سنسنی پھیل گئی۔ اطلاع ملنے پرایس ڈی ایم راکیش کمار ،سی او چوب سنگھ و انسپکٹر یگدت شرما بڑی تعداد میں پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے اور دونوںکے فریق کے معزز لوگوںکے ساتھ میٹنگ کرتے ہوئے معاملہ کو ٹھنڈ اکیا۔
بعد میں پہنچے ایس ایس پی دنیش کمار پی نے پورے معاملہ کی تفصیلی معلومات لیتے ہوئے موقع پر بھاری پولیس فورس کو تعینات کردیا۔کوتوالی انچارج یگ دت شرما نے بتایا کہ دو مختلف فرقے کے لوگوںمیںمعمولی بات کو لیکر پتھراؤ ہواہے، جس سے علاقہ کے امن و امان میں خلل پیدا ہواہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معالہ میںدونوں فریق کے 50؍ نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آس پاس کے کچھ لوگوں کو پوچھ گچھ کے لئے بلایا گیا تھا ، جن سے تفتیش کرکے انہیں بھیج دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان کی شناخت کی جارہی ہے اور جلد ہی ملزموں کو گرفتار کرکے جیل بھیجاجائے گا۔ادھر دیر رات ہوئے اس تصادم میں ایک نوجوان کی ماںکی شکایت پر سات آٹھ نامعلوم نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیاگیاہے۔خاتون نے پولیس کو دی گئی تحریر میںبتایاکہ اس کے بیٹے گگن پر بال کٹوائے جانے کے دوران کچھ نامعلوم نوجوانوں نے لاٹھی ،ڈنڈوں اور دھار دار ہتھیاروں سے حملہ کرتے ہوئے اسے گالیاں دیں۔ حالانکہ بتایاجاتاہے کہ پھٹی بال کھیلنے کو لیکر ہوئی کہاسنی کے بعد ہوئی مارپیٹ میں ایک نوجوان زخمی ہوگیاتھا،جس کے بعد زخمی اپنے ساتھیوںکے محلہ کائستھواڑہ میںواقع سفید حویلی کے متصل ہیئر سیلون میں پہنچا جہاں آشیش عرف گگن کے ساتھ مارپیٹ گئی۔
جس کے بعد دونوں فرقہ کے درجنوں لوگ آمنے سامنے آگئے اور پتھراؤ و فائرنگ ہوئی۔ زخمی گگن کی ماں اوشا دیوی نے پولیس کی دی گئی تحریر میں سات آٹھ نوجوانوں پر لاٹھی ڈنڈوں و دھار دار ہتھیاروں سے حملہ کرکے زخمی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تحریر دی ہے، پولیس نے خاتون کی شکایت نامعلوم نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیاہے۔