بندیل کھنڈ:اترپردیش کے بندیل کھنڈ میں ہفتہ کو دو خواتین نے مندر میں شادی کی۔ تقریبا چھ سال پہلے دونوں کے اہل خانہ نے انہیں ایک دوسرے سے الگ کردیا تھا۔ دونوں کالج میں ایک ساتھ پڑھتی تھیں ، اسی دوران دونوں میں پیار ہوگیا۔ لیکن جیسے ہی اس رشتہ کے بارے میں اہل خانہ کو پتہ چلا ، تو الگ کرواکر دونوں کی شادی کردی گئی۔دونوں خواتین میں سے ایک کی عمر 24 اور دوسری کی 26 سال ہے۔ دونوں نے مندر میں سادگی کے ساتھ شادی کی۔ حالانکہ رجسٹرار نے دونوں کی شادی کو رجسٹرڈ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ 6 ستمبر کو سپریم کورٹ نے دفعہ 377 میں تبدیلی کرتے ہوئے ہم جنس پرستی کو جرائم کے زمرہ سے باہر کردیا تھا۔ لیکن ہندوستان میں ابھی تک ایسی شادیوں کیلئے کوئی قانون نہیں ہے۔رجسٹرار کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرستوں کی شادی کو لے کر کوئی قانون نہیں ہونے کی وجہ سے وہ شادی رجسٹر ڈنہیں کرسکتے ہیں۔ حالانکہ دونوں خواتین نے ابھی امید نہیں ختم کی ہے۔ ان میں سے ایک کا کہنا ہے کہ ہمارے وکیل نے ہمیں بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد ہم دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں۔ ہمیں کوئی پریشان نہیں کرسکتا ہے۔چھ سال پہلے دونوں کو درمیان میں ہی کالج چھوڑنا پڑگیا تھا۔ کالج چھوڑنے کے چھ مہینے کے اندر ہی دونوں کی شادی ہوگئی۔ حالانکہ دونوں ایک دوسرے کو بھول نہیں سکیں۔ دونوں طویل قانونی لڑائی کے بعد اپنے شوہروں سے الگ ہوئیں اور اب دونوں نے شادی کی ہے۔