41 غیر قانونی عمارتوں پر کارروائی، نالاسوپارہ کے سینکڑوں خاندان بے گھر ہونے کے دہانے پرمتاثرین کی بحالی کا مطالبہ، بلڈرز کے خلاف کارروائی کی اپیل
(آفتاب شیخ)
ہائی کورٹ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے، وسئی ویرار میونسپل کارپوریشن نے نالاسوپارہ میں ڈمپنگ اور سیوریج ڈسپوزل پروجیکٹ کے لیے مختص زمین پر قائم 41 غیر قانونی عمارتوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اب تک 7 عمارتوں کو منہدم کر دیا گیا ہے جبکہ باقی 34 عمارتوں کو 31 جنوری تک گرانے کا منصوبہ ہے۔
اس کارروائی کی وجہ سے علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے، کیونکہ ان عمارتوں میں رہنے والے سینکڑوں خاندان بے گھر ہونے کے خدشے سے دوچار ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ان گھروں کو خریدنے میں لگا دی، لیکن اب وہ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
میونسپل حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی عدالتی حکم پر عمل درآمد اور پروجیکٹ کے لیے مختص زمین کو تجاوزات سے پاک کرنے کے لیے ضروری ہے۔ تاہم، متاثرہ مکینوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے ان کی بحالی کے لیے کوئی متبادل انتظام نہیں کیا۔
متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے لیے فوری بحالی کا انتظام کیا جائے اور غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر میں ملوث بلڈروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ایسے بلڈروں کو کس طرح اجازت دی گئی کہ وہ عوام کو دھوکہ دے کر غیر قانونی عمارتوں میں رہائش کے لیے مجبور کریں۔
سیاسی و سماجی تنظیموں نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور انتظامیہ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔
حکام نے شہریوں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عدالت کے احکامات پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ انتظامیہ اس بحران کو کس طرح حل کرتی ہے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔
