40 اسرائیلی طیاروں کی غزہ پر بمباری، جہاد اسلامی کے تین کمانڈرز سمیت 13 افراد جاں بحق

اسرائیلی فوج نے منگل کو علی الصباح غزہ کی پٹی پر فضائی حملے میں تحریک جہاد اسلامی کے تین کمانڈروں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔ صہیونی فوج کے 40 طیاروں نے بمباری کی۔

فوج کے عسکری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی کارروائی میں جہاد اسلامی کے شمالی ریجن کے کمانڈر خليل البهتيمی ہلاک ہو گئے۔ کمانڈر خلیل گذشتہ چند مہینوں کے دوران غزہ کے سرحد کے قریب واقع یہودی بستیوں پر میزائل حملوں کے ماسٹر مائنڈ سمجھے جاتے تھے۔

اسرائیلی بیان مزید بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر منگل کے صبح ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں جہاد اسلامی کے عسکری بازو سرایا القدس کی ملٹری کونسل کے جنرل سیکرٹری جھاد غنام اور غرب اردن میں متعدد کارروائیوں کو منظم کرنے کے نگران طارق عزالدین بھی مارے گئے۔

صہیونی فوج کے بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ منگل کے روز کی جانے والی کارروائی اسرائیل کی داخلی سلامتی کے ادارے ’’الشاباک‘‘ کے تعاون سے عمل میں لائی گئی۔

غزہ کی وزارت صحت نے فضائی حملے میں 13 افراد کی ہلاکت جبکہ 20 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 4 بچے اور 4 خواتین بھی شامل ہیں۔

تحریک جہاد اسلامی نے ایک بیان میں ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ العربیہ/الحدث ذرائع کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

تحریک جہاد اسلامی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ رد عمل میں تاخیر نہیں کی جائے گی۔

غزہ کے میڈیا آفس نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ اسرائیلی کارروائی کی وجہ سے غزہ کی پٹی میں آج سکول بند اور تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading