ہمارے معاشرے سے اچھے لوگ اور کس معاشرے میں ہوں گے؟

جو ایک واٹس ایپ فارورڈ میسج سے معافی مانگ لیا کرتے ہیں اور معاف کردیا کرتے ہیں
یہ دیکھ کر مجھے اپنے معاشرے پر فخر ہوا کہ شکر ہے میں کسی ایسے معاشرے کا حصہ نہیں جہاں دل سے اپنی غلطی پر نادم ہوکر معافی مانگنی پڑتی ہو۔
پتہ نہیں کتنی مشکل ہوجاتی ایسے معاشرے میں جہاں معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ اپنے دل کو بھی صاف کرنا پڑتا۔
مگر شکر ہے ایسا نہیں ہے۔
ہم چاہے کسی کا کتنا بھی دل دُکھا چُکے ہوں اسے تکلیف و اذیت دیں چُکے ہوں لیکن ہمارے پاس ایک فارورڈ معافی نامہ موجود ہے جس سے اس کی ساری تکالیف اور دل آزاریوں کا حل ممکن ہے۔
میں تو ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہوں جہاں سالوں کسی کو نظر انداز کرو اسکی غیبت کرو اسے بدنام کرو ہمیں کوئی شرمندگی نہیں ہوگی کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ہم اگلے سال بالکل صحیح سلامت زندہ رہنے والے ہیں اور شبِ برات کو ایک معافی نامہ بھیج دیں گے معافی ملے نہ ملے معاف کرنے والے اپنے دل کو صاف کرے نہ کرے ہم کو کیا؟
ہم نے تو معافی نامہ فارورڈ کر دیا۔

ازقلم: عائشہ نبیلہ محمد کاشف شیخ