انجمن فیض اللسان از: محمد حارث مدنی سابق متعلم ادارہ ہذا

عوام و خواص کے مابین بات پہنچانے کے دو ہی معروف و مشہور طریقے ہیں (١) تحریر و صحافت (٢) تقریر و خطابت ادارہ نے ان دونوں میدانوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اپنے طلباء کا اچھے انداز میں تربیت کا انتظام کیا ہے۔ (فیض اللسان) کے نام سے تحریر و خطابت کا شعبہ عرصہ دراز سے قائم ہے۔اس نے شھرء آفاق خطیب و انشاء پرداز پیدا کئے ہیں۔ اسی انجمن سے ایسے ایسے عظیم الشان ، نایاب قیمتی لعل وگہر ، حقانیت کے پاسباں، اور دور حاضر کے نبض شناس و شیر ببر پیدا ہوئے جنہوں نے ہتھیا گڑھ سے لیکر ہندوستان و ملک نیپال کے کونے کونے میں اپنی سادہ سلیس زبانی طاقت کا لوہا منوایا۔اور عصر ی علوم سے وابستہ یونیورسٹیوں و کالجوں میں گھس کر ایک ادنی سے ادنی طالب علم نے کھلبلی مچا دی اور ایسے پیشہ ور مغربی تہذیب کے دلدادہ پروفیسروں کی بولتی بند کردی۔ان کے الفاظ میں پانی کی روانی ، پھولوں کی شگفتگی اور بجلی کی کڑک تھی جسے دیکھ کر اعلی سے ادنی سارے لوگ اپنے لبوں پر فیض اللسان کے ترانے گنگنانے لگے۔ فیض اللسان کے ان طلبہ کو تراشنے و خراشنے، آراستہ و پیراستہ کرنے۔ ان کو چرب زبان بنانے میں جس مشفق و مربی ، محسن و مونس، کروڑوں دل کی دھڑکن، قرآن کا مفسر ، حدیث کا محدث ، فقہ کا فقیہ، ادب کا ادیب ، خطبہ کا خطیب ، کلام کا کلیم ، فلسفہ کا امام ، شیر دل، محبوب طلباء و اساتذہ، مہتمم دارالعلوم فیض محمدی مولانا محی الدین قاسمی ندوی ( اللہ عمر دراز کرے) کا مبارک آب زر سے لکھا جانے والا نام سر فہرست ہے۔
چنانچہ ہندوستان یا پڑوسی ملک نیپال کی سر زمین سے جب مسابقہ / مقابلہ کا بگل یا جرس بجی تو سب سے پہلے میرے مادر علمی کے ہونہار و نو نہال دینی قلعہ میں محصور جیالوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور انعام و اکرام کی بارش سے سیراب ہوکر شیلڈ کے ساتھ فیض اللسان کے حسن میں اضافہ کیا۔ یہ بات بھی اظھر من الشمس ہے کہ فیض محمدی کے سپوتوں نے جن جن مسابقوں میں حصہ لیا وہاں کا مد مقابل چارو خانہ چت ہو گیا۔ اس انجمن کے پروردہ کی بے باکی نے ہر سمت تہلکہ مچا دیا اور بہت جلد عالمگیر شھرت کا سبب بن گئی۔
ہندوستانی عوام بالخصوص مسلمانوں جن مشکلات کا سامنا ہے اس ایک اہم وجہ میدان صحافت میں صالح نمائندگی کمی بھی ہے۔ادارہ نے اس خلا کو پر کر نے کے لئےماہانہ مجلہ کو جاری کیا ہےجو بحمد للہ ظاہری و معنوی خوبیوں کے ساتھ ناظم اعلی صاحب کے زیر سر پرستی شائع ہو رہا ہےاور ملک کے معروف و مقتدر اہل قلم کے مضامین سے مرصع رہتا ہے اور تمام حلقوں میں مقبول ہے۔
طیب کے لہو کی لالی ہے شامل گلشن کے پھولوں میں
ورنہ ہر جانب سے گھرا ہے یہ کانٹے دار ببولوں میں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading