محبت کے فیصلے کسی کے کہنے پر نہیں کئے جاتے، یہ تو دل کے فیصلے ہوتے ہیں اور دل پر کسی کا زور نہیں چلتا. ایسا ہی ایک فیصلہ امروہہ کی شبنم نے لیا تھا. ایسا فیصلہ جس نے محبت کی کتاب میں ایک خوب صورت اور دل چسپ باب کا آغاز کیا تھا. واقعہ یہ ہے تقریباً آج سے بارہ سال پہلے امروہہ کی رہنے والی شبنم جنہوں نے دو الگ الگ مضامین میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی تھیں آٹھویں فیل سلیم کے عشق میں گرفتار ہوجاتی ہیں. ایسی محبت جس میں مہرووفا تمام وکمال موجود تھی. ساتھ جینے اور مرنے کا ایک دوسرے نےعہد وپیماں کر لیا تھا، کبھی نہ بچھڑنے اور ساتوں جنم ” تم ہمارے، ہم تمہارے” ہونے کا فریقین نے قول وقرار کر لیا تھا. قسمت وفا کے ہر سفر پر ایک دوسرے کی محبت کی مہر ثبت کرتی جارہی تھی. لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا. شبنم اور سلیم کی یہ محبت کی داستان شبنم کے اہل خانہ کو پسند نہ آئی. جس میں فرہاد وشیریں جیسا جذبہ تھا، لیلیٰ ومجنون جیسی تڑپ تھی، ہیر اور رانجھا کی کسک تھی. شبنم کے گھر والوں نے اس کے اس تعلق پر احتجاج کیا اور ان دونوں کو اس رشتے سے باز رکھنے کی کوشش کی. لیکن کون یہ جانتا تھا کہ وہ سلیم کی محبت میں اس قدر اندھی ہوچکی ہے کہ اسے پانے کے لئے وہ کوئی بھی قیمت چکا سکتی ہے. جو بھی ان دونوں کے بیچ آئے گا وہ اسے موت کی نیند سلا دے گی. ہوا یہی کہ اس نے ١٥/١٤اپریل ٢٠٠٨ء کی شب اپنے ہی گھر کے سات افراد(والدین، بھائی بھابی اور دیگر افراد) کا بے رحمی سے قتل کر دیا. اور محبت کے باب میں ایک نہایت درد ناک، خون ریز اور ظلم وجبر کی فصل کا اضافہ کر دیا.جسے یاد کرتے ہوئے کسی کی بھی روح کانپ جائے گی کیسے ایک بیٹی، ایک بہن محبت کی خاطر اپنے ہی عزیز کو موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے. خیر جرم تو جرم ہی رہے گا خواہ اس کا ارتکاب محبت کے نام پر ہی کیوں نہ ہو. پھر شبنم کیوں کر بچ پائے گی. آخر کار ضلع عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک نے شبنم کو اس جرم میں پھانسی کی سزا سنائی. اگر شبنم کو پھانسی ہوتی ہے تو آزاد ہندستان کی پہلی خاتون ہوں گی جسے یہ سزا دی جائے گی. خیر یہ عدلیہ اور آئین کے صواب دید پر منحصر ہے کہ اس کی سزا برقرار رکھے گی یا اس میں کچھ تخفیف کر دے گی.

شبنم کو اس کے کئے کی سزا تو مل جائے گی. لیکن ان اسباب و محرکات کا کیا ہوگا جو شبنم یا ان جیسوں کے ایسا کرنے کے پیچھے کار فرما ہوتے ہیں؟ سماج میں موجود ان نظریات کو کب سزا ملے گی جو اس طرح کے جرائم کا سبب بنتے ہیں؟ آخر وہ کیا وجوہات تھے جن کی بنا پر ان کے گھر والوں نے اس رشتے سے انکار کیا تھا. کہیں شبنم کے والدین کو یہ خطرہ تو لاحق نہیں تھا کہ "لوگ کیا کہیں گے، سماج کو کیسے منھ دکھاؤں گا”. وغیرہ. کیا شبنم کے ساتھ سماج میں موجود ان نظریات کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا جانا چاہیے. مجرم کہ خاتمہ سے جرم کا خاتمہ نہیں ہو سکتا لیکن اسباب جرم کے خاتمے سے انسدادِ جرم ممکن ہے. اگر وقت رہتے ہی ان کے والدین نے ان دونوں کو اس رشتے کی اجازت دے دیا ہوتا شاید پورا گھر نہ اجڑتا وہ سب بھی با حیات ہوتے اور ان کی عزیزہ بھی خوش حال زندگی گزارتی. اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین کبھی اپنے بچوں کا برا چاہیں گے ان کا ہر فیصلہ بچوں کے حق میں عموماً بہتر ہی ہوتا ہے لیکن اگر بچے کچھ ایسے فیصلے کرلیں جس میں شدت ہو اور وہ اس سےاعراض نہیں کر سکتے تو پھر والدین کو اپنے بچوں کے فیصلے کو مان لینے میں ہی بہتری ہے. محض انا کی تسکین کی خاطر اپنے عزیزوں کی زندگی کو قربان کرنے سے بچنا چاہیے.

یہ بات واضح ہو کہ بلوغت کے بعد ہر شخص کو اپنی پسند کا جوڑا چننے اور اسے اپنا ہم سفر بنانے کا قانونی اور شرعی حق حاصل ہے. اگر والدین بچوں کو اپنے پسند کا رفیق حیات کے انتخاب سے روکتے ہیں تو یہ قانونی اور شرعی دونوں اعتبار سے جرم بھی اور ظلم بھی. آئین ہند کے دفعہ ٢١ میں یہ وضاحت کی گئی ہے ہر شخص کو اپنی پسند کا رفیق حیات چننے کا بنیادی حق حاصل ہے جسے چھینا نہیں جاسکا. اگر کوئی کسی کو شادی سے روکتا ہے یا اس کے راہ میں آتا ہے تو وہ آئین کے دفعہ٢٢٦کے تحت ہائی کورٹ اور دفعہ ٣٢ کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتا ہے. نیز شریعت اسلامی نے بھی ہر بالغ کو اپنی پسند کا جوڑا چننے کا حق دیا. اور اس بات کی تلقین کی گئی کہ ولی اپنے بچوں سے ان کی مرضی دریافت کریں اور ان کی اجازت سے ہی ان کے جیون ساتھی کا انتخاب کریں. بخاری اور مسلم کی متفق علیہ روایت ہے کہ ” عن أ بي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تنكح الأيم حتى تستأمر، ولا تنكح البكر حتى تستأذن قالوا يا رسول الله صلى الله عليه وسلم وكيف إذنها قال أن تسكت”. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” بیوہ عورت کا نکاح نہ کیا جب تک کہ اس سے اجازت نہ حاصل کی جائے اور اسی طرح سے کنواری لڑکی کا بھی نکاح نہ کیا جائے جب تک کے اس سے دریافت نہ کر لیا جائے. صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنواری لڑکی سے کیسے اجازت حاصل کی جائے وہ تو بہت شرم وحیا کرتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کنواری لڑکی کی اجازت کی صورت اس کی خاموشی ہے”. ابو داؤد شریف کی ایک روایت ہے” عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال إن جارية أتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت أن أباها زوجها وهي كارهة فخيرها النبي صلى الله عليه وسلم. حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ” ایک کنواری لڑکی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہے کہ میرے والد نے میری شادی کردی ہے اور میں اس شادی سے خوش نہیں ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو یہ اختیار دیا کہ اگر وہ چاہے تو اس کو برقرار رکھے اور اگر چاہے تو فسخ کردے.

درج بالا گفتگو سے یہ بات صاف ہوگئی کہ ہر بالغ کو اپنے پسند کا رفیق حیات انتخاب کرنے کا قانونی اور شرعی حق ہے. لہٰذا اگر بچے کسی ایسی خواہش کا اظہار کریں تو ان کو اس کی اجازت دے دینی چاہیے. اگر بچے اپنے فیصلے میں غلط ہیں تو ان کو اس سے آگاہ کریں اور بات نہ بنے تو پھر ان کو اجازت دے دیں. عموماً والدین اپنی انا یا سماج کی وجہ سے اپنے بچوں کو اس کی اجازت نہیں دیتے ہیں. لیکن کیا سماج یا آپ کی اپنی انا بچوں کی خوشی سے زیادہ آپ کے لیے اہمیت رکھتی ہے؟ جس بچے کو آپ نے ہر دکھ سہ کر بھی خوشی دینے کی کوشش کی تو پھر کیوں اس کی زندگی کی عین خوشی کو اپنی انا یا سماج کے مردہ نظریات کے بھینٹ چڑھا دیتے ہیں؟ سماج میں کتنے ہی ایسے بچوں اور بچیوں کی درد بھری کہانی ہے جو اپنے سرپرستوں کے دباؤ میں آکر رشتہ ازدواج سے تو جڑ جاتے ہیں لیکن جو نئ زندگی وہ شروع کرنے جاتے ہیں وہ آغاز سے پہلے ہی جہنم بن جاتی ہے. رسم نکاح تو ادا ہو جاتی ہے لیکن اصل مقصود فوت ہوجاتا ہے. زندگیاں تباہ ہونے لگتی ہیں.اور فسادات پنپنے لگتے ہیں. اور اخیر میں خود کشی جیسی خبریں سننے کو ملتی ہیں. جس زندگی کو اب پھلنی پھولنی تھی، کئی خوش گوار بہاریں دیکھنی تھی وہ مرجھا کر دم توڑ دیتی ہے. کہیں نا کہیں ان کی اس تباہی کے پیچھے اپنوں کا ہی ہاتھ ہوتا ہے. یہ مسئلہ محض شبنم اور سلیم کی تباہی کا ہی نہیں بلکہ ان جیسے ہزاروں بچے اور بچیوں کا بھی ہے.