حماس نے اسرائیل پر تین راکٹ فائر کیے، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا: اسرائیل

حماس نے جمعرات کی سہ پہر غزہ کی پٹی سے تل ابیب کی طرف راکٹوں سے حملہ کرنے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ یہ شہریوں کے قتل عام کے جواب میں اٹھایا گیا اقدام ہے۔حماس کے عسکری ونگ ’القسام بریگیڈ‘ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’القسام بریگیڈ نے شہریوں کے خلاف صیہونی قتل عام کے جواب میں M90 راکٹوں سے تل ابیب شہر پر بمباری کی ہے۔‘

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے جنوبی غزہ سے اسرائیل میں داخل ہونے والے تین راکٹوں کا پتا لگایا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیلی فضائیہ نے ایک راکٹ کو کامیابی سے روکا، اور دو اضافی راکٹ ایک کھلے علاقے میں گرے۔‘

یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ جمعرات کو غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 91 فلسطینی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

طبی ذرائع نے بتایا کہ ایمبولینس اور سول ڈیفنس کے عملے نے مرنے والوں اور زخمیوں کو خان ​​یونس میں واقع یورپی غزہ ہسپتال منتقل کیا ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل نے ہسپتالوں اور مریضوں کا ہدف بنایا ہے جو کہ جنگی جرائم کے مترادف ہے۔

امریکی صدر کی اسرائیلی کی حمایت میں بیان

وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو اعلان کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کو دوبارہ شروع کرنے کی "مکمل حمایت” کرتے ہیں، جس میں حماس کو نئی جنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے غزہ میں جنگ بندی کی بحالی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی صدر ’اسرائیل اور اسرائیلی فوج کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور ان تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں جو انھوں نے حالیہ دنوں میں کیے ہیں۔‘

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ غزہ میں جنرل سکیورٹی سروس کے سربراہ راشد جہجوہ گزشتہ چند دنوں کے دوران غزہ کی پٹی میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے حملوں میں مارے گئے ہیں۔

حماس نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading