فرخ آباد کے بانی نواب محمد خان بنگش کے مزار پر دو لڑکیوں کی نازیبا حرکات، ویڈیو وائرل ہونے پر ہنگامہ
فرخ آباد، اتر پردیش: اتر پردیش کے ضلع فرخ آباد میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا ہے، جہاں تاریخی نواب محمد خان بنگش کے 310 سالہ قدیم مزار کے احاطہ میں پر دو لڑکیوں کی جانب سے نازیبا ویڈیو منظر عام پر آئی۔ یہ واقعہ تھانہ ماؤ دروازہ کے علاقے محلہ رکاب گنج خورد میں پیش آیا، جہاں دو نوجوان لڑکیوں نے مزار کے احاطے میں نازیبا حرکات کرتے ہوئے ایک ویڈیو بنائی۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی، جس کے بعد بنگش ویلفیر سوسائٹی کے افراد سخت مشتعل ہوگئے۔ ویڈیو میں دونوں لڑکیوں کو فرخ آباد کے بانی نواب محمد خان بنگش کے تعمیر کردہ تاریخی مقبرہ کے احاطہ میں قابلِ اعتراض اشارے کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ ویڈیو تین دن قبل سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تھی، جو تیزی سے وائرل ہوگئی۔ رپورٹ کے مطابق، اب تک یہ ویڈیو 33 ملین (3 کروڑ 30 لاکھ) سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں، جبکہ ایک ملین سے زائد بار شیئر کی جا چکی ہے۔ وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اس پر سخت تنقید کی اور ناراضگی کا اظہار کیا۔
ویڈیو وائرل ہوتے ہی بنگش ویلفیر سوسائٹی کے صدر کاظم حسین خان بنگش اور دیگر افراد نے اس پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ کاظم حسین خان، جو نواب محمد خان بنگش کی 12ویں نسل سے تعلق رکھتے ہیں نے فوراً پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر (ASI) کو فون کرکے اس معاملے کی اطلاع دی اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
بنگش ویلفیر سوسائٹی کے صدر کاظم حسین خان نے ویڈیو بنانے والی لڑکی، جو کہ فرخ آباد کی رہائشی بتائی جا رہی ہے سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کرے اور عوامی طور پر معافی مانگے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو وہ اعلیٰ حکام سے رابطہ کرکے قانونی کارروائی کریں گے۔