53 ارب ڈالر، 20 لاکھ فلسطینیوں کی منتقلی: عرب ممالک کا غزہ کو ’بحیرۂ روم کا دبئی‘ بنانے کا منصوبہ کیا ہے ؟

لیز ڈوسیٹ اور وائل حسین عہدہ,بی بی سی نیوز
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے خلاف غزہ کی تعمیر نو کے ایک متبادل منصوبے کی منظوری دی گئی ہے۔ خیال رہے کہ ٹرمپ نے غزہ سے 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کی عرب ممالک میں منتقلی کا منصوبہ پیش کیا تھا۔

ٹرمپ کے منصوبے کا متبادل مصر کی طرف سے پیش کیا گیا ہے جو 91 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں دلکش اماراتی ڈیزائنز ہیں۔ خیال رہے کہ عرب ممالک نے امریکی منصوبے کی مذمت کی تھی۔تو کیا تباہ حال غزہ کو اس عرب حمایت یافتہ منصوبے کے ذریعے ’بحیرۂ روم کا دبئی‘ بنایا جائے گا یا امریکی پلان کے تحت غزہ کو ’مشرق وسطیٰ کی ساحلی تفریح گاہ‘ بنایا جائے گا؟قاہرہ کا منصوبہ اس لیے مختلف ہے کیونکہ اس میں محض پراپرٹی کی تعمیر کی بات نہیں کی گئی۔ اس کے بینرز سیاسی نوعیت کے ہیں اور اس میں فلسطینیوں کے حقوق کی بات بھی کی گئی ہے۔بی بی سی کو منصوبے کے لیک شدہ مسودے کا بیان موصول ہوا ہے جس میں یہ درج ہے کہ غزہ عرب ریاستوں اور فلسطینیوں کی ملکیت ہے۔اس میں درج ہے کہ یہ منصوبہ ’مصر نے فلسطین اور عرب ممالک کے تعاون سے پیش کیا ہے اور اس کی بنیاد جامع عرب پلان کے طور پر غزہ کی جلد بحالی اور تعمیر نو کے حوالے سے ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے ڈیویلپمنٹ پروگرام پر ہونے والی تحقیقات پر رکھی گئی ہے۔‘اہم بات یہ ہے کہ اس منصوبے کے تحت غزہ کے 20 لاکھ سے زیادہ رہائشیوں کو اپنی اس زمین پر رہنے کا حق دیا گیا ہے جسے ان کے خاندان کی کئی نسلیں اپنا گھر کہتی ہیں۔دوسری طرف صدر ٹرمپ کو حیرت ہے کہ فلسطینی ’نقل مکانی کیوں نہیں کرنا چاہیں گے؟‘ وہ غزہ کو ایک تباہ شدہ مقام کے طور پر بیان کرتے ہیں جسے 16 ماہ تک جنگ نے نقصان پہنچایا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کے 90 فیصد گھر تباہ ہو گئے ہیں یا انھیں بھاری نقصان پہنچا ہے۔

روزمرہ زندگی کی بنیادی سہولیات جیسے سکول، ہسپتال، نکاسی آب کا نظام اور بجلی کی لائنز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔لیک شدہ مسودے میں صدر ٹرمپ کے غزہ پر ’قبضے‘ کے منصوبے کا براہ راست ذکر نہیں ہے اور نہ ہی اس میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ فلسطینیوں کو پڑوسی ممالک میں منتقل کرنے کا امریکی پلان تشکیل دیا گیا ہے۔تاہم اس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایسے کسی منصوبے سے مزید تباہی ہو گی۔اس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ’فلسطینیوں کو (غزہ سے) بے دخل کرنے یا مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو ضم کرنے کی بدنیتی پر مبنی کوششوں سے لڑائی کے نئے مرحلے شروع ہو سکتے ہیں جس سے استحکام کے مواقعوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ اس سے لڑائی خطے کے دیگر ملکوں میں پھیلے گی اور یہ مشرق وسطیٰ کی امن کی بنیادوں کے لیے واضح خطرہ ہے۔‘

جب سے امریکی صدر نے اپنے منصوبے پر بات کی ہے تب سے عرب ریاستوں پر شدید دباؤ ہے کہ وہ نہ صرف متبادل پلان پیش کریں بلکہ اس پر عملدرآمد کریں۔پراپرٹی ڈیویلپرز کو معلوم ہے کہ پریزنٹیشن معنی رکھتی ہے۔صدر ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر غزہ کی تعمیر و ترقی سے متعلق مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ویڈیو شائع کی تھی جس پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔اس ویڈیو میں ٹرمپ کا مجسمہ دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اس میں ان کے قریبی اتحادی ایلون مسک ساحل پر بیٹھے سنیکس سے لطف و اندوز ہو رہے ہیں۔ ویڈیو میں وہ اور اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو دھوپ سینک رہے ہیں اور ویڈیو میں یہ جملہ درج ہے کہ ‘ٹرمپ کا غزہ بالآخر آ گیا ہے۔’ایک مغربی سفارتکار نے تبصرہ کیا ہے کہ ‘ان کے ذہن میں صدر ٹرمپ ضرور ہوں گے۔’ وہ قاہرہ میں وزارت خارجہ میں مصری منصوبے کی بریفنگ میں شریک تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ ‘چمک دمک سے بھرپور منصوبہ ہے جسے اچھے طریقے سے تیار کیا گیا۔’قاہرہ کے ترتیب کردہ یہ تعمیر نو کے پلان، جو بی بی سی کو موصول ہوئے، میں سرسبز علاقوں اور اونچی عمارتوں کی تصاویر شامل ہیں۔ خیال ہے کہ اس منصوبے کے لیے ورلڈ بینک میں استحکام و ترقی کے ماہرین اور دبئی کے ہوٹل ڈیویلپرز سے مشاورت کی گئی ہے۔اس میں ایسے شہروں سے سبق سیکھا گیا جو تباہی کے بعد دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوئے، جیسے ہیروشیما، بیروت اور برلن۔یہ ڈیزائنز مصر کے اپنے تجربات سے بھی متاثرہ ہیں جس کے تحت ‘نیا قاہرہ’ تعمیر کیا گیا۔ یہ ایسا میگا پروجیکٹ تھا جس میں صحرائی علاقے میں نیا انتظامی دارالحکومت تعمیر کیا گیا اور اس میں تعمیراتی مہارت استعمال ہوئی۔لیکن غزہ کی تعمیر نو کے لیے رقم کہاں سے آئے گی، یہ بڑا مسئلہ ہے۔ مصر نے تجویز دی ہے کہ جلد از جلد بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جائے تاکہ تعمیر نو ممکن ہو سکے۔بظاہر امیر خلیجی ریاستیں اس خطیر رقم کے لیے کچھ حصہ ادا کرنے کو تیار ہیں۔

اقوام متحدہ کا انداز ہے کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے قریب 50 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔تاہم کوئی بھی سرمایہ کاری کرنے کو تب تک تیار نہیں جب تک انھیں یقین نہ ہو جائے کہ ایک اور جنگ میں تمام نئی تعمیرات کو گِرا نہیں دیا جائے گا۔غزہ میں ایک کمزور جنگ بندی، جو خاتمے کے دہانے پر ہے، اس ہچکچاہٹ کو بڑھائے گی۔مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی نے اتوار کو کہا کہ ’ہم بڑے ڈونر ممالک سے مشاورت کریں گے۔‘ انھوں نے امید ظاہر کی کہ دنیا بھر کے دارالحکومت اس کے لیے پیسے جمع کرنے میں مدد کریں گے.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading