عید الاضحی کی تعطیلات کے بعد مادر علمی کی طرف سفر کی ایک جھلک : ازقلم ؛ محمد عبداللہ۔مہاراشٹر

337

عید الضحٰی کی تعطیلات ختم ہوچکی ہیں ،طالبان مدارس اسلامیہ کے رخت سفر باندھنے کا وقت آگیا ہے علوم نبوت کے متلاشی علمی تشنگی بجھانے کے لئے بے تاب ہیں طلبہ تن تنہا اور گروپ کی شکل میں مدارس کا رخ کررہے ہیں میں چونکہ سرزمین مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والا ادنی سا طالب علم ہوں، اس لیے میں بھی اپنے ایام تعطیل گزارنے کے بعد اپنے مادر علمی کی جانب عازم سفر ہوں، چونکہ یہاں سے دیوبند جانے والی ٹرین یا تو نظام الدین سے یا نئی دہلی سے ہوتے ہوئے جاتی ہے؛

دوستو!
‘ہاں یہ وہی دہلی ہے جہاں چھ سو سال تک مسلم سلاطین نے پوری آن بان اور شان سے حکومت کی ،اس کے چپے چپے اور گوشے گوشے سے ہمارے اسلاف کی کی یادیں وابستہ ہیں ،لال قلعہ کی سرخی ،قطب مینار اور انڈیا گیٹ کی بلندی اور جامع مسجد کی خوب صورتی آج بھی ہماری شان و شوکت اور عظمت وسطوت کی گواہ ہیں ،اس شہر نے حضرت عالم گیر اور سلطان شمش الدین التمش جیسے باجبروت، عادل اور منصف حکم راں دے ہیں ،

خیر ہم سب ساتھی(🍁محمد عبداللہ، محمد شاہد، محمد یاسین، عمران ،ابراہیم،سلمان ،ذکی صفوان🍁) ،نظام الدین اسٹیشن پر تھکےہوئے،گرمی کی وجہ سے پیسنہ میں شرابور اپنے منزل کی تلاش میں بے چین مسافر کی طرح کھڑے تھے ،

،چوں کہ ہم لوگوں کی دیوبند جانے والی ٹرین کی ٹکٹ کے لیے مختصر سا وقت تھا؛اس لیے فورا نظام الدین سے نئی دہلی اسٹیشن کا قصد کیا ،اوٹو رکشہ پر سوار ہوکر نئی دہلی کے وسیع وکشادہ راستوں سے ہوتا ہوا نئی دہلی اسٹیشن پہنچا ، راستے میں ہرشخص اپنے کام میں مگن نظر آرہا تھا ،ہر طرف لوگوں کی بھیڑ ہی بھیڑ تھی،مزدور حصول رزق کی خاطر انتھک محنت اور جدوجہد کررہے تھے، مسافرین اپنی منزل کی سمت رواں دواں تھے، گاڑیوں ،رکشوں اور قافلوں کا ایک ہجوم تھا ،گاڑیوں کی ہارن اور لوگوں کی آوازیں فضا میں ایک عجیب کشش و کیفیت پیدا کررہی تھیں ،وہ تو بھلا ہو وہاں کے ٹریفک نظام کا کہ ہر شخص اتنا رش ہوتے ہوئے بھی بہ سہولت اپنی منزل کی طرف گامژن تھا،

چنانچہ میں اور میرے تمام دوست و احباب ہندوستان کی راجدھانی نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر آگئے یہ اسٹیشن اگر چہ بڑا ہے؛ لیکن اتنا زیادہ بڑا بھی نہیں ہے، جب ہم لوگ اسٹیشن پر دیکھا تو ہر کوئی یہاں کی گرمی سے حال سے بے حال تھا موسم گرما کی گرم ہوائیں لوگوں کی قوت برداشت کا امتحان لے رہی تھی اور ہم لوگوں کی اگلی ٹرین دوپہر پونے تین بجے تھی لہذا ہم لوگ جلد ہی باہر آگیے اور نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر گروپ کے تمام ساتھیوں نے سامان اپنے اپنے سیٹ کے پاس رکھ دیا اور یہ پلیٹ فارم نمبر ۵ پر جالندھر ایکسپریس کھڑی تھی، جس میں ہم لوگوں کو جانا تھا، ہم لوگ اس میں بیٹھ چکے تھے اور جب اس عمل سے فارغ ہوا تو صرف آٹھ منٹ گاڑی کے نکلنے میں باقی تھے ہم سب ساتھی گاڑی میں بیٹھ چکے تھے اور اب جب کہ میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں اپنے رفقا کے ساتھ جالندھر ایکسپریس میں بیٹھا دیوبند کی طرف عازم سفر ہوں۔
آپ حضرات سے دعا کی درخواست ہے اللہ صحیح سلامت منزل تک پہنچاۓ اور مقصد سفر میں کام یابی عطا فرمائے ۔آمین!