اگر دل سے یہ دعا نکلے کہ یہ سال تو اچھا سال رہے، تو اس کا مطلب سیدھا ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ ظاہر ہے موجودہ صورتحال کو کسی بھی طرح ٹھیک نہیں کہہ سکتے کیونکہ ٹھیک کہنے کے لئے دل پتھر کا چاہئے۔ نہٹور کے سلیمان اور انس کے گھر والوں کے دلوں پر کیا گزر رہی ہوگی اس کا اندازہ بھی لگانا مشکل ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اتر پردیش میں 22 اور آسام میں 5 ایسے خاندان ہیں جن کے گھر موت کا ماتم پسرا ہوا ہے۔ ان گھروں کے لوگوں کے لئے اناج کا ایک دانہ بھی حلق سے نیچے اتارنا مشکل ہو رہا ہوگا۔ شہریت ترمیمی قانون واحد ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ دعا دل سے نکل رہی ہے کہ ’یہ سال تو اچھا سال رہے‘۔ مہنگائی کا یہ حال ہے کہ پیاز جیسی عام لوگوں کے استعمال کی چیز عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہو گئی ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کا خوف اس قدر گھر کر رہا ہے کہ ان کی پڑھائی سے دوری بڑھتی نظر آ رہی ہے اور وہ زبردست مایوسی کا شکار ہیں۔ ملک کا کسان جو پہلے سے ہی مقروض ہے وہ مزید قرضوں میں گھرتا جا رہا ہے۔ مزدوروں کی نوکریاں خطرے میں ہیں کیونکہ ملک کی بڑی بڑی صنعتیں بند ہونے کے دہانے پر ہیں۔
یہ ایسے مسائل ہیں جن پر حکومت کو سنجیدگی سے غور کر کے ان کے حل نکالنے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن اس کے بر عکس حکومت کی توجہ اس بات پر زیادہ ہے کہ جو مذہبی اقلیتیں پڑوسی ممالک میں زیادتیوں کا شکار ہیں ان کو اپنے ملک میں شہریت کیسے دی جائے اور حکومت یہ شہریت بھی مذہبی تفریق کی بنیاد پر دینا چاہتی ہے۔ کسی بھی ایسے شہری کو جس کے ساتھ کسی ملک میں زیادتی ہورہی ہو، اس کو اپنے ملک میں پناہ دینا یا اپنے ملک میں شہریت دینا ایک انتہائی نیک قدم ہے لیکن اگر ایسے نیک کام کو بھی سیاسی چشمہ پہنانے کی کوشش کی جانے لگے تو یہ انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔ اس کے نتائج سامنے آ چکے ہیں، ملک کا ایک بڑا طبقہ اس کے خلاف کھڑا ہو گیا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں نہ صرف لوگوں کی جانیں گئی ہیں بلکہ بڑے پیمانہ پور سرکاری نقصان کے ساتھ ساتھ طلباء کی تعلیمی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
ویسے تو اس سال اگر حکومت کی کارکردگی کا بغور جائزہ لیا جائے تو اقتصادی شعبہ میں پوری طرح ناکامی رہی ہے اور سیاسی محاذ پر بھی مرکز میں اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی کو ریاستوں میں زبردست نقصان ہوا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس نے طلاق ثلاثہ اور شہریت ترمیمی قانون کوپارلیمنٹ سے منظور کرا لیا ہے۔ ان دونوں معاملوں کو اگر غور سے دیکھا جائے تو ایک بات تو واضح ہے کہ دونوں کا تعلق ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں سے ہے۔ حکومت اور اس کے سرپرست ضرور یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ان معاملوں کے ذریعہ اقلیتوں کو گھیر کر اکثریت کے بڑے طبقہ کو خوش کر دیا گیا ہے لیکن اگر اس کو غور سے دیکھا جائے تو ان دونوں معاملوں اور ایک بابری مسجد کے معاملہ سے ملک کی اقلیت کو بہت بڑا فائدہ ہوا ہے۔
اگر بابری مسجد کے فیصلہ پر غور کیا جائے تو یہ ہر لحاذ سے اقلیتوں کے حق میں ہے۔ سپریم کورٹ نے مسجد کی اراضی ہندو فریق کو دیتے ہوئے یہ مان لیا کہ مسجد کسی مندر کی جگہ تعمیر نہیں کی گئی تھی اور 6 دسمبر 1992 کو مسجد کا انہدام ایک مجرمانہ عمل تھا۔ یعنی مسجد انہدام کرنے والوں کوغلط قرار دیا گیا۔ اقلیتوں کے موقف کی تائید ہوئی اور تنازعہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا۔ لیکن جو فیصلہ سنایا گیا اس سے ہندو فریق اور سپریم کورٹ دونوں پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔ یہ وہ پہلو ہیں جو ملک کی اقلیتوں کے حق میں ہیں۔
طلاق ثلاثہ بل کی منظوری سے یہ ضرور ہے کہ اس میں سزا کے پہلو کو نظر انداز کر دیا جائے تو اقلیتوں کے لئے یہ بہت اہم اور اچھا فیصلہ ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ مسلمانوں میں اکثریت یہ چاہتی تھی، لیکن مسلکی اختلافات کی وجہ سے اس میں کوئی حتمی فیصلہ لینے کی کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ اب حکومت کے فیصلہ کے بعد اس مسئلہ کا حل ہو گیا اور مسلمانوں کے آپسی مسلکی اختلافات کے بغیر بڑھے حل ہو گیا، بلکہ حکومت کے ذریعہ قدم اٹھائے جانے کی وجہ سے مسلمانوں میں مسلکی اتحاد بڑھ گیا۔
شہریت ترمیمی قانون نے مسلمانوں کو زبر دست فائدہ پہنچایا اور حکومت کے ذریعہ یہ قانون بنائے جانے سے نہ صرف ان میں سیاسی بیداری پیدا ہو گئی بلکہ ان کے اور ملک کے آزاد خیال طبقہ میں قربت بڑھ گئی۔ صرف یہی نہیں کہ اقلیتوں میں اور آزاد خیال طبقہ میں قربت بڑھی یا جامعہ اور جے این یو میں قربت بڑھی، بلکہ اس قانون کے خلاف مظاہرہ کی وجہ سے اقلیتوں کی نصف آبادی یعنی خواتین جو ان سب سے دور رہتی تھیں یا ان کو جان بوجھ کر دور رکھا جاتا تھا وہ بھی میدان میں آ گئیں۔ خواتین کے میدان میں آنے کا سیدھا مطلب ہے کہ اقلیتوں کی قوت میں اضافہ ہوا اور اقلیتوں کی جو نصف آبادی قوم کے ہر اہم مسئلہ سے باہر رہتی تھی وہ مرکز میں آ گئی اور یہ آنے والے دنوں میں اقلیتوں کی ترقی میں اہم کردار کی شکل میں سامنے آ ئے گا۔ یہ ان مذہبی رہنماؤں کی بھی شکست ہے جنہوں نے برصغیر میں اقلیتوں کی اس نصف آبادی کو گھروں میں بند کر رکھا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ کبھی کبھی خیر میں شر کا پہلو چھپا ہوتا ہے اور کبھی کبھی شر میں خیر کا پہلو چھپا ہوتا ہے اور شاید سال 2019 میں جو کچھ ہوا ہے اور جن کو اقلیتیں شر سمجھ رہی ہیں اسی میں اقلیتوں کے لئے خیر کا پہلو چھپا ہے۔ جو بھی ہو، دعا یہی ہے کہ سال 2020 تو اچھا سال رہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
