2019 کا انتخابی نتیجہ شک کے دائرے میں، 145 سبکدوش افسروں نے الیکشن کمیشن کو لکھا کھلا خط

لوک سبھا انتخاب کے دوران اپوزیشن کے ذریعہ انتخابی کمیشن کی کارگزاری پر سوال کھڑے کیے جانے کے بعد اب سبکدوش سول اور فوجی افسروں کے ساتھ ساتھ ماہرین تعلیم نے بھی 2019 کے مینڈیٹ پر سنگین سوال کھڑے کیے ہیں۔ 64 سابق آئی اے ایس، آئی ایف ایس، آئی پی ایس اور آئی آر ایس افسران نے انتخابی کمیشن کو کھلا خط لکھا ہے۔ اس خط کی 83 سبکدوش سول اور فوجی افسروں کے ساتھ ساتھ ماہرین تعلیم نے بھی حمایت کی ہے۔ انگریزی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کی رپورٹ کے مطابق سبکدوش افسروں نے انتخابی کمیشن کو لکھے خط میں کہا ’’2019 کا لوک سبھا انتخاب آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخاب کے معاملے میں گزشتہ تین دہائیوں میں سب سے ذیلی سطح پر نظر آتا ہے۔‘‘ خط میں سبکدوش افسران نے 2019 کے مینڈیٹ کو شبہ کے گھیرے میں بتایا ہے۔

سبکدوش افسران نے خط میں لکھا ہے کہ لوک سبھا انتخاب کے دوران بے ضابطگیوں کو لے کر سوال کھڑے کیے گئے تھے، لیکن جن چیزوں پر سوال کھڑے کیے گئے تھے اس پر انتخابی کمیشن کی جانب سے صفائی نہیں دی گئی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ انتخابی کمیشن کو ایسے معاملوں میں خود سے پیش قدمی کرنی چاہیے اور مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات پر وضاحت پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ سبکدوش افسران نے خط میں لکھا ہے کہ اس طرح کی چیزیں دوبارہ نہ ہوں، یہ یقینی بنانے کے لیے کمیشن کے ذریعہ قدم اٹھائے جانے کی ضرورت ہے، تاکہ عوام کا انتخابی عمل میں بھروسہ قائم رہے۔ خط میں انتخاب کی تاریخ، شیڈول، انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، پلوامہ اور بالاکوٹ جیسے ایشوز کا انتخابی تشمیر میں استعمال کیا جانا، الیکٹورل بانڈس، نیتی آیوگ کا کردار، نمو ٹی وی اور ای وی ایم سمیت کئی اہم ایشوز کو لے کر سوال کھڑے کیے گئے ہیں۔

انتخابی کمیشن کو لکھے گئے خط پر دستخط کرنے والوں میں سابق آئی اے ایس افسر وجاہت حبیب اللہ، ارونا رائے، جوہر سرکار، ہرش مندر، این سی سکسینہ اور ابھجیت سین گپتا شامل ہیں۔ ان کے علاوہ سابق آئی ایف ایس افسر شیو شنکر مکھرجی اور دیب مکھرجی بھی خط کی حمایت کرنے والوں میں شامل ہیں۔ دیگر اہم ناموں میں ایڈمیرل وشنو بھاگوت، پرنجوئے گوہا ٹھاکر، ایڈمیرل ایل رام داس، نویدیتا مینن، لیلا سیمسن اور پربل داس گپتا وغیرہ ہیں۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading