20 لاکھ کروڑ روپے کی مدد کا غبارہ پھٹ گیا: بالاصاحب تھوراٹ کورو نا کی وجہ سے زندگی وموت سے جوجھ رہے لوگوں کو مودی کا پیغام: اگر زندہ رہنا ہے تو قرض لیں

ممبئی:مودی حکومت نے ہندوستانی عوام کو 20 لاکھ کروڑ روپئے کی مالی مدد کا خواب دیکھا یا لیکن اس مدد کے غبارے کی ہوا اتنی جلد نکل جائے گی، اس کا اندازہ نہیں تھا۔ ہوا یہ کہ مرزکی حکومت سے مدد کا خواب دیکھنے والی عوام کے ہاتھوں میں مدد کے نام پر صرف قرض آیا ہے۔ یہ سخت تنقید آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ووزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے کی ہے۔

تھورات نے کہا کہ فرانس میں انقلاب کے وقت بھوک سے مررہے لوگوں کو کو فرانس کی ملکہ میری انٹوینیٹ نے کہا تھا کہ” اگر روٹی نہیں مل رہی ہے تو کیک کھاو“۔آج کورونا سے مررہے لوگوں کو مودی سرکار کہہ رہی ہے کہ اگر زندہ رہنا ہے تو قرض لو۔ مودی نے عوام کوخودانحصاری کا نیا مطلب سمجھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگرزندہ رہنا ہے تو قرض کے ساتھ زندہ رہو اور مجھ سے مدد کی کوئی امید نہ رکھو۔

انہوں نے کہا ہے کہ کورونا کی مصیبت کی وجہ سے مکمل طور تباہ ہوچکی معیشت کو اگر دوبارہ زندگی دینا ہے تو بازار میں مانگ بڑھانے کی جانب مرکزی حکومت کو توجہ مبذول کرنا لازمی تھا۔ اسی مانگ سے مہاجر مزدور، غریب عوام ، اوسط طبقے کے لوگ نیز سینئر لوگوں کو معاشی استحکام حاصل ہوتا۔ ان غریبوں واسط طبقے کے لوگوں کو حکومت کی جانب سے مدد کی توقع تھی لیکن اسی کے ساتھ یہ لوگ زیادہ سے زیادہ خرچ کریں ، اس کے لیے ہر شخص کے اکاونٹ میں ساڑھے سات ہزار روپئے جمع کرائے جائےں۔ یہ مطالبہ کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے کیا تھا۔ لیکن اس توقع کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مودی سرکار نے عوام کو خودانحصاری کا کچھ ایسا پیغام دیا کہ اگر زندہ رہنا ہے توقرض لو۔

تھورات نے کہا کہ 1947کے بعد سے ملک کی سب سے بڑی مہاجرت یہ مودی حکومت کی سوغات ہے۔ گزشتہ دو مہینوں سے مہاجرمزدوروں کی بڑے پیمانے پر واپسی ہورہی ہے ۔ ان کی مصیبتوں کو کم کرنے اور انہیں حوصلہ دینے کے لیے ریاستی حکومت نے فوری طورپرکھانے پینے کا انتظام کرنا شروع کیا۔ فوڈ سپلائی نظام کے تحت ان مہاجر مزدوروں کومناسب قیمتوں میں اناجوں کی تقسیم کے لیے ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت سے بار بار مطالبہ کیا، لیکن مرکزی حکومت نے اس کی منظوری نہیں دی۔دو ماہ کی جان لیوا مصیبت کے بعداب جاکر مرکزی حکومت کو پانچ کلو زائد اناج دینے کا خیال آیا ہے۔ یہی خیال اگر اسے کچھ پہلے آگیا ہوتا تو ان مہاجر مزدوروں کو کچھ راحت ضرورر مل گئی ہوتی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہاجر مزدوروں کی آج جو حالت ہے اس کی تمام تر ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

بڑے پیمانے پر اپنے اپنے وطن واپس جانے والے ان مزدوروں کے روزگار کے لیے ان کے گاوں میںروزگار فراہم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے منریگا کے ایام میں اضافہ کیا ہے۔ کانگریس کے ذریعے لائی گئی اس اسکیم کی مودی حکومت مخالفت کرتی رہی، لیکن اب یہی اسکیم مزدوروں کے لیے ایک نعمت ثابت ہورہی ہے۔ لیکن منریگا میں کام کرنے والے مزدرووںکے علاوہ دیگر لوگوں کے روزگار کے لیے مودی حکومت کے پاس کون سی اسکیم ہے؟ اس کے بارے میںمودی حکومت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ منریگا میں 40سے50فیصدزائد مزدوروں کا اندراج ہوا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر بیشتر مزدوں ابھی تک دیگر ریاستوں میں پھنسے ہوئے ہیں یا جو ابھی راستے میں ہیں تو پھر اس قدر زائد اندراج کیسے ہوسکتا ہے؟مرکزی حکومت کو اس کا جواب دینا چاہیے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading