دارالعلوم فیض محمدی میں مولانا مبارک حسین ندوی کے لئے دعائیہ نشست کا اہتمام
آنند نگر مہراج گنج (عبید الرحمن الحسینی) نورالعلوم مدھولیہ نیپال کے موسس وناظم اعلیٰ و مشہور عالم دین مولانا مبار ک حسین ندوی قاسمی کے انتقال پر دارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڈھ ، لکشمی پور میں شوشل ڈسٹنسنگ کا لحاظ رکھتے ہوئے ایک تعزیتی نشست ادارہ کے سربراہ اعلیٰ حضرت مولاناقاری محمد طیب قاسمی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔
قرآن خوانی وایصال ثواب کے بعدتعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے کہا کہ: مولانا مبار ک حسین ندویؒ ہندونیپال کی مشہور شخصیات میں سے تھے، وہ ایک مخلص خادم قوم ہونے کے ساتھ ساتھ باصلاحیت عالم دین اور بہترین منتظم کار تھے ، اپنے دینی وملی کارناموں کے حوالہ سے وہ ہندوستان کے صف اول کے علماءمیں سے تھے، بلاشبہ آپ کے انتقال سے ملت اسلامیہ کا کافی بڑا نقصان ہوا ہے، جس کی تلافی بظاہر ممکن نہیں دکھائی پڑ رہی ہے، آپ نے پوری زندی خدمت خلق اور نونہالوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں صرف کردی۔
دارالعلوم فیض محمدی کے ناظم اعلیٰ مولانا سعد رشید ندوی نے اپنے گہر ے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: حیات انسانی کی بے یقینی اس سے زیادہ کیا ہوگی کہ مولانا مبارک حسین ندویؒ ابھی چنددنوں قبل پورے طور پر زندگی مستعار سے لطف اندوز ہورہے تھے، مجلسوں میں آپ کی آمد سے رونق بڑھ جایا کرتی تھی، کسے معلوم تھا کہ اسلام کا یہ عظیم سپاہی اپنے کارناموں کے انمٹ نقوش چھوڑ کر آخرت کے سفر پر روانہ ہوجائے گا۔مولانا کی ذات اخلاق حسنہ کی پیکر تھی ، طلبہ ہوں یا عوام جس سے بھی ملتے ، خندہ پیشانی سے ملتے ، آپ بے حد متواضع اور ملنسار تھے۔
دارالعلوم فیض محمدی کے پرنسپل مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: ، اللہ نے مولانا ندوی کو حسن صورت کے ساتھ حسن سیرت اور بلند کردار عطا کیا تھا، گہرائی سے دیکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ مرحوم کی مجاہدانہ زندگی ، سرگرمی عمل ،اور اخلاص واحتساب کی دولت بے بہا نے آپ کو خلق خدا کا محبوب بنادیا تھا، آپ گوکہ نیشنلٹی کے حساب سے نیپالی تھے مگر ہندوستانی علماء سے بڑے گہرے روابط تھے ، اپنے دینی وملی خدمات ، جلسوں اور دینی محفلوں میں قیمتی مواعظ حسنہ کی وجہ سے دونوں ملک کی عوام میں یکساں طور پرمحبوب تھے۔ یقیناآپ کی رحلت ، ملت اسلامیہ بالخصوص مدرسہ نورالعلوم مدھولیہ کے لئے کسی بڑے حادثہ سے کم نہیں ہے۔
اس تعزیتی نشست میں، مفتی احسان الحق قاسمی، ڈاکٹر محمد اشفاق قاسمی، مولانا وجہ القمر قاسمی ، مولانا شکراللہ قاسمی ، مولا محمدصابر نعمانی ، مولانا محمد سعید قاسمی، حافظ ذبیح اللہ ، حافظ ناظم ، ، محمد قاسم، ماسٹر محمد عمر خان ، ماسٹر جاوید احمد ، ماسٹر جمیل احمد ، ماسٹر صادق علی، ماسٹر فیض احمد ، ملا محمد مسلم ، وغیرہ موجود تھے۔
