غازی آباد ،10فروری(پی ایس آئی)ضلع کے ایک کسان کا بیٹا اپنی محنت اور جذبے کے دم پر اےس جے اےس کا امتحان پاس کر جج بن گیا ہے. صاحب آباد گاو¿ں میں رہنے والے 48 سالہ سنیل کوشک نے بتایا کہ میرے دادا کا خواب تھا کہ ان کا پوتا جج بنے. دادا کے اس خواب کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے 15 سال تک مسلسل اےس جے اےس کا امتحان دیا اور آخر کار امتحان پاس ہوکر جج بن گئے. انہیں مدھیہ پردیش کے دموہ ضلع میں اےڈیجے کے عہدے پر تعیناتی ملی ہے. سنیل کوشک نے بتایا کہ انہوں نے 12 ویں سے لے کر ایم اے تک کی تعلیم شبھودیال انٹر اور ڈگری کالج سے کی. اس کے بعد ایل ایل بی کی تعلیم میرٹھ کے اےن اے اےس ڈگری کالج سے کی. اس کے بعد غازی آباد واقع کچہری کے احاطے میں پریکٹس شروع کر دی.
سنیل نے بتایا کہ ان کے دادا پنڈت لکھپت شرما انہیں جج کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے. ایسے میں سنیل نے اےس جے اےس کا امتحان دینے کی تیاری شروع کر دی. اس کے لئے انہوں نے 10 گھنٹے روزانہ پڑھائی کرنے کا چارٹ بنا لیا تھا. سنیل نے بتایا کہ انہوں نے 15 بار اےس جے اےس کا لاامتحان دیا. دو بار انٹرویو سے باہر ہو گئے، لیکن ہمت نہیں ہاری. 48 سال کی عمر میں سنیل کوشک نے آخر کار یہ امتحان پاس کر لیا. سنیل کوشک کی ایک بیٹی ہے. اس نے بھی ایل ایل بی کا امتحان پاس کر لیا ہے اور وہ بھی پی سی اےس جے کی تیاری میں مصروف ہے. سنیل نے بتایا کہ اگر انسان اپنا ہدف طے کر لے تو کسی بھی منزل کوپا سکتا ہے. کوشک کے جج بننے پر بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے انہیں اور ان کے خاندان کو مبارک باد دی ہے.