حیدرآباد۔یکم نومبر۔ حیدرأباد میں رہنے والا 11 سال کا محمد حسن علی اپنے علم کو لے کر سرخیوں میں ہے۔ ساتویں کلاس میں پڑھنے والا حسن بی ٹیک اور ایم ٹیک کے طالب علموں کو ڈیزائننگ اور ڈرافٹنگ پڑھاتا ہے۔ حسن اپنے ‘طلباء’ سے اس کے لئے کوئی فیس نہیں لیتا ہے اور 2020 کے اختتام تک ایک ہزار انجینئرز کو پڑھانا چاہتا ہے۔حسن نے بتایا، "میں گزشتہ 1 سال سے پڑھا رہا ہوں۔ میرے لئے انٹرنیٹ سیکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ میں فیس نہیں لیتا، کیونکہ میں اپنے ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں.
حسن نے اس کے ساتھ ہی بتایا، "میں صبح اسکول جاتا ہوں اور 3 بجے گھر واپس ہوتا ہوں۔ میں کھیلتا ہوں اور اپنا ہوم ورک کرتا ہوں۔ اس کے بعد شام 6 بجے میں پڑھانے کے لئے کوچنگ چلا جاتا ہوں‘.وہیں، خود سے دوگنی عمر کے طالب علموں کو اس طرح پڑھانے کا آئیڈیا کہاں سے ملا، اس سوال پر حسن بتاتے ہیں کہ ’’میں انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا۔ اس میں بتایا جا رہا تھا کہ ہندوستانی طلبہ پڑھائی کے بعد بھی بیرون ملک میں چھوٹی موٹی ملازمتیں کر رہے تھے۔ تب میں نے سوچا کہ ہمارے انجینئر ایک خاص معاملہ میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور وہ چیز تھی کمیونکیشن اسکل۔ ہمارے یہاں کے طلبہ کمیونکیشن میں کافی کمزور رہے ہیں اس وجہ سے وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ وہیں، میرا پسندیدہ موضوع ڈیزائننگ تھا تو میں نے اس پر اور زور شور سے کام شروع کر دیا.