۱۵؍دن قبل دربھنگہ سے اغوا کی گئی مسلم طالبہ کی تالاب سے لاش برآمد ،علاقے میں سنسنی

دربھنگہ۔ ۲۸؍دسمبر:(رفیع ساگر) کیوٹی تھانہ علاقہ کے لہوار پنچایت کے پلکھواڑہ گاوں سے 15 دسمبر کو مبینہ طور پر اغوا کرلی گئی 14 سالہ لڑکی کی لاش بنجرہی پوکھر میں ملنے کے بعد سنسنی پھیل گئی ہے۔مقتولہ گورنمنٹ مڈل اسکول میں 7 ویں کی طالبہ تھی۔پولیس کو جائے وقوع سے ایک مفلر ہاتھ لگا ہے جس سے اس سے قتل کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔تاہم بتایا گیا ہے کہ پولیس نے اس معاملے میں 2 مشتبہ لوگوں کو حراست میں لیا ہے جس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

مقتولہ بچی کی شناخت عبدالمومن کی بیٹی کی شکل میں ہوئی ہے جو 15 دسمبر کو دادی کے یہاں ساگ دینے کے لئے گھر سے نکلی تھی جو گھر تک نہیں پہنچ پائی تھی تو اس کا اغوا کا معاملہ درج کرایا گیا تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہفتہ کے روز مقامی لوگوں نے لاش کو پوکھر میں تیرتے ہوئے دیکھا تو فوری طور پر اس کی اطلاع پولیس کو دی۔اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور لاش نکالنے کی کوشش شروع کردی لیکن گاؤں کے لوگوں نے لاش کو باہر نکالنے سے منع کر دیا۔اور اعلی افسران کو بلانے کی مانگ کرنے لگے۔اس دوران پولیس کو عوامی غم و غصے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ دریں اثناء اطلاع ملنے پر کمتول انسپکٹر بسنت کمار جھا ، ریام صدر سمیت ضلع کے کئی تھانوں کی پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئی۔

اس دوران ایس ڈی پی او انوج کمار،ٹریفک ڈی ایس پی برجو پاسوان بھی موقع پر پہنچ کر لوگوں کو سمجھایا۔بعد میں ایس ایس پی بابو رام موقع پر پہنچ کر لاش کو تالاب سے باہر نکلوایا اور پوسٹ مارٹم کے لئے ڈی ایم سی ایچ دربھنگہ بھیج دیا۔ معلوم ہو کہ 15 دسمبر کی شام پانچ بجے کے قریب بچی گاؤں میں ہی دادی کے یہاں ساگ لیکر گئی تھی کافی دیر تک واپس نہیں لوٹی تو اہل خانہ سمیت رشتہ داروں کو تشویش ہوئی اور 16 دسمبر کو اس کی والدہ انگوری خاتون کی تحریری درخواست پر مقامی تھانہ میں 19/192 درج کیا گیا جس میں پلکھواڑہ ، بشن پور کے سرجیت پاسوان،دلیپ پاسوان اور مسٹر پاسوان کو نامزد کیا گیا۔ اس سلسلے میں 22 دسمبر کو مغویہ کے والد دہلی سے گھر لوٹنے کے بعد پولیس تھانہ میں دوسری درخواست دے کر پرسا وشن پور کے مکیش شرما کو بھی اغوا کرنے کے معاملہ میں نامزد کرنے کی گہار لگائی تھی۔مقتولہ بچی چار بہن بھائیوں میں تیسری تھی اور قریبی لہوار مڈل اسکول کی ساتویں جماعت میں پڑھتی تھی۔

سب سے بڑی بہن غیر شادی شدہ ہے ، دوسرا بھائی جمیل 14 اور سب سے چھوٹا بھائی ذکاءاللہ 5 سال کا ہے۔ والد عبدالمومن دہلی میں مزدوری کا کام کرتے ہیں۔ دوسری جانب ایس ایس پی نے کہا کہ قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کئی پہلووں پر تفتیش کی جا رہی ہے۔پولیس کی ٹیم ملزمین کی گرفتاری کے لئے لگاتار چھاپہ ماری کر رہی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading