یو پی کے ” لو جہاد” آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج

نئی دہلی : یوپی حکومت کے ذریعہ لائے گئے تبدیلی مذہب آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں دو وکلا ء اور ایک قانون کے محقق نے ایک عرضی دائر کی ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ کسی کو بھی غلط طور پر پھنسانے اور انتشار پیدا کرنے کے لئے اس آرڈیننس کا غلط استعمال کیا جائے گا۔ درخواست گزار نے عدالت عظمیٰ سے آرڈیننس کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ آرڈیننس آئین کے تحت بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ کسی شخص کا حق ہے کہ وہ اپنی زندگی کا ساتھی منتخب کرے اور حکومت شہریوں کے ان حقوق کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اسمبلی ضمنی انتخاب کے دوران ، یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ لو جہاد کے حوالے سے ریاست میں ایک قانون لایا جائے گا۔ یوپی کی کابینہ نے 24 نومبر کو غیرقانونی تبدیلی مذہب آرڈیننس ‘کو منظوری دے دی۔

یوپی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس کے تحت لالچ ، جھوٹ بول کر یا جبراً کئے گئے تبدیلی مذہب یا شادی کے لئے تبدیلی مذہب کو جرم سمجھا جائے گا۔ ایک نابالغ ، شیڈول ذات کی لڑکی تبدیلی مذہب پر سخت سزا دی جائے گی۔ بڑے پیمانے پر مذہب تبدیل کرانے والی سماجی تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ مذہبی تبدیلی کے ساتھ ساتھ بین المذاہب شادی کرنے والوں کو ثابت کرنا ہوگا کہ انہوں نے اس قانون کو نہیں توڑا ، اس کے ساتھ ہی لڑکی کا مذہب تبدیل کر کی گئی شادی کو شادی نہیں سمجھا جائے گا۔ جبراً کی گئی تبدیلی مذہب ایک معقول اور ناقابل ضمانت جرم ہوگا۔
اس قانون کو توڑنے پر کم از کم 15000 روپے جرمانہ اور ایک سے پانچ سال تک کی سزا ہوگی۔ یہی کام نابالغ ، شیڈول ذات یا قبیل سے تعلق رکھنے والی لڑکی کے ساتھ کرنے میں کم سے کم 25 ہزار روپے جرمانہ اور 3 سے 10 سال تک کی سزا ہوگی۔ غیر قانونی طور پر بڑے پیمانے پر تبدیلی مذہب میںکم سے کم پچاس ہزار روپے جرمانہ اور تین سے دس سال تک کی سزا ہوگی۔ مذہب تبدیل کرنے لئے طے شدہ فارم بھر کر دو ماہ پہلے ڈی ایم کو دینا ہوگا ، اس کو نہ ماننے پر چھ ماہ سے تین سال سزا اور کم سے کم دس ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading