جب سے اتر پردیش میں پرینکا گاندھی نے کمان سنبھالی ہے تبھی سے پارٹی تنظیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں جاری ہیں۔ او بی سی طبقہ سے آنے والے اجے سنگھ لالو کو یوپی کانگریس کا صدر بنانے کے بعد، یوپی کانگریس نے پرینکا گاندھی کی ہدایت پر ایک اور بڑا فیصلہ لیا ہے۔
پارٹی نے ریاست کے قبائلی اکثریتی ضلع سون بھدرا کی کمان گونڈ طبقہ سے تعلق رکھنے والے رام راج گونڈ کو سونپ دی ہے۔ رام راج گونڈ کا تعلق اُمبھا کے قتل عام میں ہلاک ہونے والے قبائلی معاشرے سے ہے اور وہ ایک عرصے سے قبائلیوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

ایسا مانا جاتا ہے کہ قبائلیوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کی وجہ سے یوگی حکومت نے رام راج کے خلاف غنڈہ ایکٹ کے تحت متعدد مقدمات درج کیے ہیں۔
رام راج گونڈ نے ’قومی آواز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پرینکا گاندھی کی طرف سے انہیں جو ذمہ داری سونپی گئی ہے اسے وہ پوری ایمانداری سے انجام دیں گے اور قبائلی طبقہ کو کانگریس میں لانے کے لئے کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’پہلا کام امبھا کے قتل عام میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو انصاف دلانا ہے اور اس کے لئے وہ کانگریس کے بینر تلے جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘‘
رام راج گونڈ نے امبھا کے قتل عام میں ہلاک ہونے والے لوگوں کے لواحقین کے ساتھ پرینکا گاندھی سے اس وقت ملاقات کی تھی جب وہ چنار قلعے میں نظربند تھیں۔
واضح رہے کہ سون بھدر اتر پردیش کا ایک قبائلی اکثریتی ضلع ہے جہاں گونڈ، کول، بیئار، کھر وار جیسی ذاتیں آباد ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی طور پر قبائلی برادری کانگریس کو ووٹ دے رہی ہے لیکن پچھلے کچھ سالوں میں بی جے پی نے ان میں نقب زنی کر لی ہے۔ کانگریس، پرینکا گاندھی کی سربراہی میں سنجیدگی سے اپنے کھوئے ہوئے حمایتی مرکز کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
