مہوبا: چرکھاری حلقہ انتخاب سے بی جے پی کے رکن اسمبلی اور ان کے سابق رکن پارلیمان والد کے مبینہ طور پر گوردھن ناتھ جو مندر اور اس سے منسلک تقریباً 200 کروڑ روپے کی املاک پر قبضہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ قبضہ کرنے کا الزام بی جے پی سے ہی نگر پالیکا پریشد کے چیئرمین مول چندر انوراگی نے عائد کیا ہے۔
چرکھاری نگر پالیکا پریشد کے چیئرمین مول چندر انوراگی نے کہا، ’’حکومت اور اقتدار کے سامنے ضلع انتظامیہ بے بس نظر آ رہی ہے۔ انگر پالیکا چرکھاری کی بیش قیمتی 200 کروڑ روپے کی املاک پر رکن اسمبلی کے والد نے غیر قانونی طور تاریخی مندروں اور اثاثوں کو قبضہ لیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’مہوبا ضلع کے چرکھاری میں واقع تاریخی گوردھن جو مہاراج کا صدیوں پرانا مندر ہے، جس کی تقریباً 200 کروڑ روپے کی پراپرٹی سے منسلک ہے۔ اس املاک کو بی جے پی رکن اسمبلی اور والد گنگا چرن راجپوت نے ملکہ چرکھاری سے محض ایک کروڑ کی لیز پر لے لیا تھا۔‘‘
پالیکا کے چیئرمین مول چندر انوراگی اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے، ’’تاریخی محل کے نزدیک واقع گوردھن ناتھ جو مندر محکمہ آثار قدیمہ کے دستاویزات میں درج ہے۔ رکن اسمبلی کے والد بیش قیمتی زمین اور مندر پر غیر قانونی قبضہ کرنا چاہتے ہیں، جس کا مقدمہ الہ آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ ماضی میں بھی نیت کے میلے کے دوران رنگائی پتائی تک کرنے سے پالیکا کو روکنے کی کوشش کی گئی تھی، اس وقت بمشکل امن ہو سکتا تھا۔‘‘
الزام ہے کہ 18 ستمبر کو نگر پالیکا چرکھاری میں بورڈ میٹنگ کے دوران ہری ہر مشرا رکن اسمبلی کے نمائدہ کے بطور میٹنگ ہال میں آ گئے اور ہائی کورٹ میں مندر تنازعہ میں اب تک کے خرچ تخمینہ مانگنے لگے۔ اتنا ہی نہیں مندر تنازعہ میں ہے، کورٹ میں ہونے والے خرچ پر تجویز پیش نہ کرنے کا دباؤ بنایا گیا۔
پالیکا کے چیئر مین نے الزام عائد کیا، ’’ہم لوگوں نے پُر امن طریقہ سے مذاکرات کو کہا تو ہری ہر مشرا نے گالی گلوچ کی اور ذاتی شناخت کے الفاظ کہتے ہوئے قتل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے فرار ہو گئے۔ ان کی یہ کرتوت پالیکا میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے میں بھی قید ہوئی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ مندر کی خاطر آخری سانس تک جد و جہد کریں گے۔
غورطلب ہے کہ پالیکا چیئرمین مول چندر انوراگی بھی بی جے پی رہنما ہیں اور برج بھوشن راج پوت جن پر مندر کی زمین پر قبضہ کرنے کا الزام ہے، وہ بھی بی جے پی کے ہی رہنما ہیں۔
پالیکا چیئرمین کی حمایت میں آگے آئے سابق چیئرمین اروند سنگھ نے کہا، ’’چرکھاری کا ڈیوڑھی دروازہ 1881 میں تعمیر ہوا تھا۔ ملکہ چرکھاری نے جی آر ایس ہوٹل کے نام سے سابق رکن پالیمان گنگا چرن راجوت کو اسے فروخت کیا تھا لیکن مندر کو کبھی فروخت نہیں کیا تھا۔ سابق رکن پارلیمان اور موجود رکن اسمبلی اقتدار کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور چرکھاری کی شناخت کو مٹانے میں مصروف ہیں۔ اس املاک کا معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ میں زیر غور ہے۔‘‘
پولس سپرنٹنڈنٹ سوامی ناتھ نے بتایا، ’’مہوبا کی چرکھاری شہر کوتوالی میں پالیکا بورڈ کی میٹنگ جاری تھی، اس میں کچھ تجاویز منظور کی جا رہی تھیں۔ اسی اثنا میں رکن اسمبلی کے نمائدہ اور چیئر مین میں معمولی کہا سنی ہو گئی۔ دونوں فریقین کی شکایت پر مقدمہ درج کر کے کارروائی کی جائے گی۔‘‘
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
