یوپی: پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں 15 افراد جاں بحق،263 پولیس اہلکار زخمی

لکھنؤ:21 دسمبر(یواین آئی) شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اترپردیش کے مختلف اضلاع میں ہوئے رہے احتجاجی مظاہروں میں پھوٹ پڑنے والے تشدد میں اب تک الگ الگ اضلاع میں 15 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 263 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس(نظم ونسق) پروین کمار نے یہاں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سی اے اے کے خلاف ہوئے احتجاجی مظاہروں کے درمیان پھوٹ پڑنے والے تشدد میں میرٹھ سے سب سے زیادہ 4 افراد جان بحق ہوئے ہیں جبکہ فیروزآباد میں 3، کانپور اور بجنور میں 2،2 اور ورانسی،لکھنؤ،سنبھل اور ایک ایک شخص کی موت ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تشدد میں باہری عناصر کے شامل ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ گذشتہ کل جمعہ کی نماز کے بعد احتجاج کرہی بھیڑ میں شامل شرارتی عناصر نے تشدد کو ہوا دی۔ معاملے کی جانچ کی جارہی ہے جس میں قصور وار پائے گئے کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائےگا۔ساتھ ہی معاملے درج کر کے سرکاری نقصان کی تلافی ان کی ملکیت سے کی جائےگی۔
مسٹر کمار نے بتایا کہ تشدد کے دوران شر پسند عناصر کے ذریعہ کئے گئے پتھراؤ اور آگزنی میں ایس پی سمیت 263 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 57 کو گولی لگی ہے۔ پولیس نے تشدد زدہ علاقوں سے ممنوعہ طمنچوں کے 405 کھوکھے برآمد کئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تشدد کے معاملے میں ریاست کے علیحدہ علیحد اضلاع میں 124 مجرمانہ مقدمے درج کئے گئے ہیں اور 705 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ 4500افراد کو حراست میں لے گیا ہے۔مسٹر کمار نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر 13101 قابل اعتراض پوسٹ پر کاروائی کی گئی ہے جن میں 63 ایف آئی آر درج کر کے 102 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 442 افراد پابند کئے گئے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading