یونیفارم سیول کوڈ۔ این آر سی کا نفاذ اب شاید ممکن نہیں،مسلمانوں کے سر سے بہت بڑا خطرہ ٹل گیا

بنارس جہاں گنگا ماں نے مودی کو بلایا تھا ‘ وہاں ۔
٭ یہ دونوں لیڈرس اپنے سیکولرزم کے لیے جانے جاتے ہیں۔’’ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے ‘‘ کے مصداق آج نریندر مودی ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اپنا من مانی فیصلہ نہیں کرسکتے۔ الیکشن کے دوران مودی کے مخالف مسلمان بیانات بلکہ بکواس کو ملک کی ایک بڑی اکثریت نے ناپسند کیا اور ببانگِ دہل کہا کہ ایسے الفاظ کا استعمال ملک کے وزیراعظم کو زیب نہیں دیتا۔ مودی کا اعلان کہ وہ حیاتیاتی مخلوق نہیں بلکہ آفاقی مخلوق ہیں‘ ایک قابلِ مذمت بکواس سمجھا گیا اور یہ بات بہت تلخ تنقید کا باعث بنی۔ بابری مسجد کے ملبہ پر تعمیر رام مندر جس کو مودی کے اقتدار کا دوام سمجھا گیا تھا‘ ایک غبارہ ثابت ہوا جس کی ہوا خود فیض آباد میں بی جے پی کی شرمناک شکست نے نکال دی۔

بنارس جہاں گنگا ماں نے مودی کو بلایا تھا ‘ وہاں مودی ووٹوں کی ابتدائی گنتی میں کئی راؤنڈ تک پیچھے چلتے رہے اور بعد میں بمشکل ایک لاکھ ووٹس سے جیتے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ گنگا ماں کی گود میں جاتے جاتے بچ گئے۔ ہندوستان کے باشعور عوام جن کی رگ و پئے میں جمہوریت سمائی ہوئی ہے‘ اس بات کو برداشت نہیں کرسکے کہ وہ ایک ہٹلر نما ڈکٹیٹر کے محکوم بنیں۔

ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش جہاں مسلمانوں کی تعداد22 فیصد ہے ‘ جمہوریت پسند ہندو بھائیوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوکر استقامت کا ثبوت دیا اور مودی کی سب سے پسندیدہ ریاست اترپردیش میں جمہوریت کا علم ایستادہ کیا اور ہندو مسلم اتحاد کا ثبوت دیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مودی کی اس شکست میں مسلم اتحاد کا بڑا ہاتھ ہے۔ کیوں کہ اس بار مسلم ووٹس منتشر نہیں ہوئے اس بات کے قطع نظر کہ انہیں پولنگ بوتھ پر جانے سے روکا گیا ‘ حتیٰ کہ پولیس نے انہیں لاٹھی چارج کرکے منتشر کردیا‘ پھر بھی مسلم ڈٹے رہے اور انہوں نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرہی لیا۔

اگر ریاست اڑیسہ میں بیجو پٹنائک کو اپنی وفاداری کا صلہ شکست کی صورت میں نہ ملتا تو یقینی طور پر مودی حکومت کو شکستِ فاش ہوجاتی لیکن ایسا نہ ہوسکا لیکن اس نتیجہ کو کانگریس کی شکست سے تعبیر نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ کانگریس پارٹی نے قابل تحسین انداز میں الیکشن میں حصہ لیا۔ دشمن کو کاری ضرب لگانا ہی فتح ہوتی ہے اور خاص طور سے ایسی شکست جس میں دشمن اپنے پیروں پر چلنے سے معذور ہوجائے اور دو کمزور بیساکھیوں کا سہارا لے جو کسی وقت بھی ڈگمگاسکتی ہے۔ یا پھر مودی ایک ایسا شنر بن چکے ہیں جس کے دانت اور پنجہ کے ناخن نکال لئے جائیں اور وہ اس طرح اپنا گزارہ صرف سوپ پر کرسکے۔

یا پھر وہ ایسا بچھو بن چکے ہیں جس کی ڈنک نکال لی گئی ہو۔ گویا موجودہ حالات میںوزیراعظم ایسے لیڈر بن چکے ہیں جو اپنے فیصلے آپ نہیں کرسکتے۔ ان کے ہر عمل پر دو کڑے نگران کار مقرر کئے گئے ہیں جو ان کو کوئی ایسا فیصلہ کرنے سے باز رکھیں گے جس سے جمہوریت داغ دار ہو۔ موجودہ حالات میں این۔ آر سی اور یونیفارم سیول کوڈ کو برفدان میں ڈال دیا جائے گا۔ کسی بھی وزیر کی یہ ہمت نہ ہوسکے گی کہ وہ یونیفارم سیول کوڈ نافذ کرنے یا این۔آر۔سی لاگو کرنے کی بات کرسکے۔ ملک میں مساجد کے انہدام کی کارروائی فی الفور رک دی جائے گی اور زیر تصفیہ مقدمات بھی سست رفتاری کے شکار ہوں گے۔
ایک شیر جس کو بیس سال سے گوشت کھانے اور خون پینے کی عادت ہو‘ کس طرح اڈلی۔ دوسہ۔ اور پوری ساگ پر گزارہ کرے گا۔ آخر کار وہ دن آہی جائے گا جب مودی بیزار ہوکر استعفیٰ دے ہی دیں گے اور کسی اور شخص کو وزیراعظم بنایاجائے گا۔اس بات کے بھی امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ بی جے پی ممبرس آف پارلیمنٹ اپنی پارٹی سے منحرف ہوکر کانگریس خیمہ میں آجائیں گے کیوں کہ دس سالہ محکومی اب زیادہ برداشت نہیں ہوسکتی۔

سیاست کی یہ کیسی نیرنگی ہے کہ صرف چند ماہ قبل چندرابابو نائیڈو مودی کے اشاروں پر جیل بھیج دیئے گئے ۔ مودی نے انہیں ایسا شخص کہا جس نے اپنے سسر کی پیٹھ میں خنجر بھونکا تھا۔

امیت شاہ نے نتیش کمار سے کہا تھا کہ اب آپ کیلئے ہمارے دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہوگئے ہیں لیکن امیت شاہ نے ہی بابو اور نتیش کمار کو فون کرکے دہلی بلوایا۔ یہ بات سچ ہے کہ سیاست میں کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا لیکن بے شرمی کی بھی کوئی حد مقرر کرنی چاہیے۔۔
لوک سبھا کا اسپیکر کوئی تلگودیشم پارٹی کا ممبر پارلیمنٹ ہوگا۔ ایسی صورت میں حزب اختلاف کو طویل مباحث میں حصہ لینے پر پابندی نہیں ہوگی۔ سابقہ اسپیکر آر۔ ایس ۔ایس اسکول کا تربیت یافتہ تھا اور اس کی ذہنیت کیسی ہوگی اظہر من الشمس ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں مثلاً سبرامنیم سوامی اور دیگر کے مطابق یہ مودی کی شرمناک شکست ہے کیوں کہ یہ الیکشن مودی کے چہرے پر لڑا گیا جس کو قوم نے دھتکار دیا لہٰذا مودی کو اخلاقی طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیئے۔ پارٹی کی اندرونی بغاوت کس دن کیا کردکھائے کوئی نہیں کہہ سکتا۔

اس بات کا بھی امکان ہے کہ گڈکری بغاوت کرسکتے ہیں کیوں کہ مودی نے صاف طور پر کہا تھا کہ وہ آر ایس ایس کے محتاج نہیں۔ اس پارٹی کے محتاج نہیں جس کے ٹکڑوں پر وہ نصف سے زیادہ عمر گزارچکے ہیں۔ اقتدار کے حصول کی خاطر بے وفائی کو برا نہیں سمجھا جاتا۔ اس الیکشن کے نتائج کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں نے ایک اطمینان کی سانس لی۔ کیوں کہ این۔آر۔سی اور یونیفارم سیول کوڈ کے خیال سے وہ بے حد فکر مند تھے۔ انہیں اپنا حق رائے دہی خطرے میں نظر آرہا تھا ۔ شہریت چھین لئے جانے کا ڈر تھا۔ عائلی قوانین پر خطرات منڈلارہے تھے۔

آج نہیں تو چھ ماہ بعد ہی سہی ۔ یہ حکومت شکست سے دوچار ہوگی اور نئی حکومت راہول گاندھی کی قیادت میں ابھرے گی۔ پتہ نہیں کب یہ دونوں بیساکھیاں چھوٹ جائیں یا ٹوٹ جائیں۔(NDA) کی چھوٹی پارٹیاں کانگریس میں داخل ہوسکتی ہیں۔ مودی جو کھیل مدھیہ پردیش ‘ کرناٹک اور مہاراشٹرا میں کھیلا تھا‘ وہی کھیل اب ان کے خلاف کھیلا جانے والا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading