موجودہ دور میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے دلوں میں غربا پروری کا جذبہ بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے، ایسے لوگوں کو معاشرے میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، غریب لوگ اپنی دعاؤں میں ایسے مخیرین ، فیاض، سخی لوگوں کو یاد رکھتے ہیں، کیونکہ یہ مخیرین حضرات اپنی قیمتی رقوم سے ان کی اعانت، دستگیری کرتے رہتے ہیں، انہیں معاشرے میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور قسام ازل کی شفقت و عنایت سے یہ کریم النفس حضرات خوشحالی کی زندگی گزر بسر کرتے ہیں،ایسے چیدہ حضرات کے علاوہ عمومی طور پر دیکھا جائے تو لوگ اپنے قرابت داروں، گاؤں والوں کے تعاون کو معیوب سمجھتے ہیں، یہ بات لمحہ فکریہ ہے کہ قرآن مجید کی تعلیم سے رو گردانی کرتے ہوئے اپنے قریبی رشتہ داروں غریبوں کی مدد سے گریز کرنا، نہایت ہی قابل افسوس بات ہے،
سالِ گذشتہ رمضان المبارک میں ہمارے گاؤں کرہی کے چند غیور مسلم نوجوانوں نے گراں قدر رقوم سے اپنے گاؤں کرہی کے مفلوک الحال غریبوں، یتیموں، بیواؤں کی اعانت کئے تھے،نمونہ کے طور پر میں ان کے اسمائے گرامی کو سپرد قرطاس کر رہا ہوں تاکہ دیگر لوگوں کے دلوں میں امنگ پیدا ہو، ان کے سوئے ہوئے جذبات معاونت کے لیے بر انگیختہ ہو جائیں-
میں سب سے پہلے اس خوش نصیب نوجوان سے ابتدا کر رہا ہوں جن کا اسم گرامی محمد اسعد بن فضل الرحمن میڈیکل والے ہیں، آپ سنجیدہ شخصیت کے مالک ہیں، آپ مستقل طور پر اپنے گاؤں کے غریبوں یتیموں بیواؤں کی امداد کرتے رہتے ہیں،امداد کے علاوہ آپ خلیق ملنسار بھی ہیں، وطن گیا تو چشم دید بات گوش گزار کر رہا ہوں کہ ان کے میڈیکل سے قریب ڈاکٹر کے یہاں بغرض علاج اپنی چھوٹی ہمشیرہ کو لیکر پہنچا، انہوں نے ہماری خاطر تواضع کی اور خوش دلی سے پیش آئے مزید ڈاکٹر کے یہاں تکلیف نہ ہو خود ساتھ میں گئے،جس کام میں میرا گھنٹوں صرف ہوتا اسے کچھ ہی دیر میں پورا کرا دیئے، وقت گزر جاتا ہے لیکن انسان کے اچھے کاموں کی یادیں تازہ رہتی ہیں، یہ ان کی اپنائیت صرف میرے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ گاؤں کے اور لوگوں ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں-
دوسرے جمن بن محبوب احمد عرف کوئل بھیا ہیں، یہ بھی مستقل مزاجی سے اپنی امداد گاؤں کے مستحقین تک پہنچاتے رہتے ہیں، ان کی سخاوت پر راقم الحروف تقریباً دو سال قبل خامہ فرسائی کر چکا ہے، عنوان تھا آنکھوں دیکھا حال گاؤں کرہی، کسی نے اس وقت ان سے کہا کہ وہ آپ کا نام دیکھا ہے واٹس اپ گروپ پر ،مجھ سے انہوں نے کہا کہ آپ نے کچھ لکھا ہے، میں نے کہا کہ آپ کے پاس موبائل ہوگا اس میں دیکھ سکتے ہیں، ایسے دور میں ان کا جواب سن کر میں بھی ششدر رہ گیا، اس لئے کہ وہ پردھان زمیندار گھر کے فرزند ہیں، اینڈرائڈ موبل ان کے یہاں کوئی معنی نہیں رکھتا تھا، لیکن انہوں نے کہا کہ میرے پاس سادہ موبائل فون ہے یہی میں استعمال کرتا ہوں، یہ دو سال قبل کی بات ہے، ایسے نوجوانوں کو دیکھ کر دلی مسرت ہوتی ہے،کہ ان کے حوصلے خدمت خلق میں کتنے بلند ہیں-
تیسرے ولی اللہ ابن نصیب اللہ عرف بجلی چچا ہیں، یہ میرے گاؤں کے ہی نہیں بلکہ میرے خاص دوستوں میں سے ہیں، گذشتہ رمضان المبارک میں انہوں نے اک خطیر رقم سے گاؤں کے غریبوں، بیواؤں کی اعانت کئے تھے، آپ نے مدارس اسلامیہ میں چند سال تعلیم حاصل کی ہے، اس وقت پال گھر میں دکان چلا رہے ہیں، آپ ایک کامیاب تاجر ہیں، اور اسی کے ساتھ با اخلاق خیر خواہ مہمان نواز بھی ہیں، آپ خوش دل مزاحیہ طبیعت کے مالک ہیں، ایسے لوگ جہاں کہیں بھی رہتے ہیں کامیابیاں ان کے قدم چومتی ہیں –
چوتھے مولانا جنید صاحب ہیں جنہوں نے رمضان المبارک میں عید الفطر کے موقع پر اپنی رقوم سے گاؤں کے غریب لوگوں کی مدد فرمائے تھے ، مولانا جنید صاحب گاؤں سے بہت دور رہتے ہیں، لیکن ان کی یہ محبت ہی تو ہے کہ خوشیوں کے موقع پر اپنے گاؤں کے ان خستہ حال لوگوں کی دلجوئی فرمائے جن کے گھروں میں کوئی کمانے والا نہیں ہے، یہ نادار آپ جیسے سخی لوگوں کی راہ دیکھتے رہتے ہیں، ایسے مفلسوں کی عید الفطر کے موقع پر اعانت کرنا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے سچے امتی کی پہچان ہے، آپ سوشل میڈیا پر وقتاً فوقتاً باطل کے خلاف لب کشائی کرتے رہتے ہیں، آپ کے افکار و خیالات بہت اعلی ہیں-
اخیر میں میں اپنے ہی گاؤں کے مولانا انظر حسین قاسمی صاحب جعفریہ بک ڈپو کو کیسے فراموش کر سکتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو جن خوبیوں سے نوازا ہے وہ کم لوگوں کے حصے میں آتی ہیں، آپ ایک عالم دین، بہترین صحافی، شہنشاہ تحریر، ملنسار با اخلاق، متنوع صفت ہستی ہیں، آپ کے دل میں خدمت خلق کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ، سال رواں آپ نے ایک یتیم طالب علم کی پورے سال تک کفالت فرمائی ہے، جو کہ بھیونڈی مولانا حلیم اللہ صاحب کے مدرسہ میں زیر تعلیم ہے، یہ کام وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کے دل میں غریبوں کی محبت ہو،
یہ میرے گاؤں کرہی کے کتنے خوش نصیب حضرات ہیں جن کو اللہ نے مال سے نوازا ہے تو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے غریب امتی پر اپنا مال نچھاور کر رہے ہیں، رمضان المبارک کا مہینہ قریب ہے لکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ اپنے غریب قرابت داروں، گاؤں والوں کی اعانت فرمائیں، مجھے ان حضرات کے بارے میں علم تھا اسی لیے نمونہ کے طور پر ان کا نام لکھ دیا ہوں،
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر
ہمارے معاشرے میں غریبوں کے بچے خورد و نوش، بود و باش، پوشاک و لباس سے محروم نہ رہیں، اس کے لئے صاحبِ ثروت مند حضرات ان غریبوں پر اپنی زکوۃ و خیرات کو صرف کریں، اس سے معاشرے میں خوشحالی آئے گی اور کوئی غریب اپنی بدقسمتی پر آنسو نہیں بہائے گا بلکہ آپ لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، خدا کی بار گاہ میں اپنی جھولی پھیلا کر آپ لوگوں کے لیے دعائیں بھی کرے گا،
جہاں تک میری آواز پہنچے گی میں تمام مخیرین حضرات سے درخواست کروں گا، خصوصاً کرہی تاریخی گاؤں کے غیور مسلمان نوجوانوں سے کہ وہ غریبوں، بیواؤں، یتیموں کی اس سال بھی مدد فرمائیں،
اللہ اپنی شایان شان اجر عطا فرمائے آمین
احقر العباد: محمد شمیم’ دارالعلوم حسینیہ بوریولی ممبئی