ہندوؤں سے گزارش’گھروں میں کانچ کی بوتلیں اور تیر کمان رکھیں‘، ساکشی مہاراج کامتنازعہ بیان

نئی دہلی :متنازعہ بیان دینے کے لیے مشہور بی جے پی رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے ایک بار پھر اپنے بیان سے تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ تازہ بیان انھوں نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے دیا ہے۔ انھوں نے اپنے پوسٹ کے ذریعہ ہندوؤں سے گزارش کی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں کانچ کی بوتلیں اور تیر کمان رکھیں کیونکہ جہادی بھیڑ سے بچانے کے لیے پولیس نہیں آنے والی۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ کے اس بیان کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، حالانکہ ساکشی مہاراج کا کہنا ہے کہ اس میں کچھ بھی اشتعال انگیز نہیں ہے۔

یہ فیس بک پوسٹ ساکشی مہاراج نے 24 اپریل کو کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے ’’اگر یہ بھیڑ اچانک آپ کی گلی، محلے یا گھر میں آ جائے تو اس کی ترکیب ہے… ایسے مہمانوں کے لیے ہر گھر میں ہونا چاہیے کولڈ ڈرنک کے ایک یا دو ڈبے اور کچھ تیر۔ جئے شری رام۔‘‘ اپنے پیغام کے ساتھ انھوں نے ایک سڑک پر لاٹھیوں سے لیس لوگوں کی بھیڑ کی ایک تصویر پوسٹ کی ہے۔ساکشی مہاراج نے پوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’پولیس آپ کو بچانے نہیں آئے گی، بلکہ خود کو بچانے کے لیے کسی دڑبے میں چھپ جائے گی۔ ان لوگوں کے ’جہاد‘ کرنے اور جانے کے بعد تب پولیس ڈنڈا ٹھوکنے آ جائے گی اور سب کچھ ختم ہونے کے بعد ایک جانچ کمیٹی بنائے گی۔ یہ پیغام کسی ایک ریاست کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ہے۔‘‘

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading