ہندوستان میں واٹس ایپ بند ہو جائے گا؟

نئی دہلی:7فروری(ایجنسیز)ہندوستان میں کاروبار کر رہیں سوشل میڈیا کمپنیوں کے لئے حکومت کے ذریعہ مجوزہ کچھ شرائط و ضوابط اگر نافذ ہو جاتے ہیں تو اس سے ’وہاٹس ایپ‘ کے موجودہ وجود پر ملک میں خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ کمپنی کے ایک سرکردہ افسر نے بدھ کے روز یہ جانکاری دی۔ ہندوستان میں وہاٹس ایپ کے 20 کروڑ ماہانہ صارفین ہیں اور یہ کمپنی کے لیے دنیا کا سب سے بڑا بازار ہے۔ کمپنی کے دنیا بھر میں کل 1.5 ارب یوزرس ہیں۔دلی میں ایک میڈیا ورکشاپ کے موقع پر وہاٹس ایپ کے کمیونکیشن سربراہ کارل ووگ نے بتایا کہ ”مجوزہ شرائط و ضوابط میں سے جو سب سے زیادہ تشویش کا باعث ہے وہ میسیج کا پتہ لگانے پر زور دینا ہے، یا انھیں پڑھنا ہے۔“ فیس بک کی ملکیت والی وہاٹس ایپ ڈیفالٹ طور پر اِنڈ-ٹو-اِنڈ انکرپشن کی پیشکش کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف پیغام بھیجنے والا اور اسے حاصل کرنے والا ہی پیغام پڑھ سکتا ہے اور یہاں تک کہ وہاٹس ایپ بھی اگر چاہے تو بھیجے گئے پیغامات کو پڑھ نہیں سکتا ہے۔ ووگ کا کہنا ہے کہ اس فیچر کے بغیر وہاٹس ایپ کی شکل ہی بدل جائے گی اور وہ بالکل نیا پروڈکٹ بن جائے گا۔ ووگ امریکہ میں براک اوباما کے صدارتی دور میں ان کے ترجمان کے طور پر بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ”مجوزہ تبدیلی جو نافذ ہونے جا رہی ہے، وہ اس مضبوط رازداری سیکورٹی کے لیے موزوں نہیں ہے، جسے دنیا بھر کے لوگ چاہتے ہیں۔“ انھوں نے کہا کہ ”ہم انڈ-ٹو-اِنڈ انکرپشن مہیا کراتے ہیں، لیکن نئے ضوابط کے تحت ہمیں ہمارے پروڈکٹ کو دوبارہ سے تیار کرنے کی ضرورت پڑے گی۔“ انھوں نے آگے کہا کہ ایسی صورت میں میسیجنگ خدمات اپنی موجودہ شکل میں موجود نہیں رہیں گی۔ووگ نے نئے قوانین نافذ ہونے کے بعد ہندوستانی بازار سے باہر نکل جانے کے امکانات کو خارج بھی نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ ”اس بارے میں اندازہ لگانے سے کوئی مدد نہیں ملے گی کہ آگے کیا ہوگا۔ اس مسئلہ پر ہندوستان میں بحث کرنے کے لیے ایک پراسیس پہلے سے ہی موجود ہے۔“ اِنڈ-ٹو-اِنڈ انکرپشن فیچر سے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے لیے افواہ پھیلانے والے ملزمین تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کے لیے اطلاعات و نشریات وزارت کے ذریعہ مجوزہ قوانین کے تحت انہیں اپنی خدمات کے غلط استعمال اور تشدد پھیلانے سے روکنے کے لیے ایک مناسب طریقے پر عمل کرنا ہوگا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading