ہفتہ کے روز پاکستان میں ہندوستانی ہائی کمشنر اجے بساریا نے ایک افطار پارٹی کا اہتمام کیا تھا جو کہ تنازعہ کا شکار ہو گیا۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق بساریا کی اس افطار پارٹی میں کئی مشہور و معروف ہستیوں، بیرون ممالک کے افسران اور طلباء کو مدعو کیا گیا تھا، لیکن پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں کے رویے کی وجہ سے ان سب کو بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مہمان تو بغیر افطار پارٹی میں شریک ہوئے واپس ہو گئے۔
دراصل پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے مہمانان کی سخت جانچ کرنی شروع کر دی اور خبروں کے مطابق انھیں اس قدر پریشان کیا گیا کہ کچھ لوگ واپسی کے لیے مجبور ہو گئے۔ ہندوستانی ہائی کمشنر بساریا نے اس کے لیے بعد میں اپنے ان سبھی دوستوں اور مہمانوں سے معافی مانگی جنھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ معافی مانگنے کا یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہو رہا ہے۔
خبروں کے مطابق پاکستان کے درالحکومت اسلام آباد کے ہوٹل سیرینا میں افطار پارٹی رکھی گئی تھی۔ اس میں شامل ہوئے کچھ مہمانان نے بتایا کہ باہر کھڑے افسران نے ان کے ساتھ برا سلوک کیا۔ بساریا نے جب یہ سب کچھ دیکھا تو انھیں بہت تکلیف ہوئی اور افطار کے دوران موجود لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ "میں اپنے ان سبھی دوستوں سے معافی مانگتا ہوں جنھیں سختی سے کی گئی جانچ کا سامنا کرنا پڑا۔” اتوار کے روز دیے گئے ایک بیان میں بساریا نے یہ بھی کہا کہ جو کچھ پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں کے ذریعہ کیا گیا وہ سفارتی رویے کے بالکل خلاف ہے۔
Indian High Commissioner to Pakistan Ajay Bisaria to ANI: They not only violate basic norms of diplomatic conduct and civilized behaviour, they are counter-productive for our bilateral relations. (2/2) https://t.co/P38ualSWDj
— ANI (@ANI) June 2, 2019
بتایا جاتا ہے کہ ہندوستانی ہائی کمشنر نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان، صدر عارف علوی، خارجہ سکریٹری اور قومی اسمبلی کے اسپیکر کو بھی افطار پارٹی میں مدعو کیا تھا لیکن انھوں نے اس سے کنارہ کیا۔ اس افطار پارٹی میں سیاسی شخصیتوں، صوفی برادری کے معزز لوگوں، اساتذہ، مصنفین، فنکاروں، سماجی کارکنان، پاکستانی طلبا اور دیگر معزز شخصیتوں کو بھی دعوت دی گئی تھی۔
کچھ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ پاکستانی سیاستدانوں نے ان بزنس مین اور اہم شخصیتوں کو ہندوستانی ہائی کمشنر کی افطار پارٹی میں شریک ہونے سے منع کیا جو مہمانان کی فہرست میں شامل تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کی وجہ ہندوستان کا رویہ بتایا گیا اور کہا گیا کہ ہندوستانی پی ایم مودی نے حلف برداری تقریب میں عمران خان کو مدعو نہیں کیا جو پاکستان کی بے عزتی ہے۔
– Source بشکریہ قومی آواز بیورو—
